آپ نے مجھے کیوں روکا؟ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا پولیس افسران سے سوال
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے ملاقات کیلئے آنے والے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو پولیس نے داہگل ناکے پر روک دیا۔
اس موقع پر سہیل آفریدی نے پولیس افسران سے سوال کیا آپ نے مجھے کیوں روکا؟ ہم ڈیڑھ سال سے قانون اور آئین کا احترام کر رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ کے پی نے کہا کہ عدالت کے احکامات ہیں پھر بھی نہیں ملنے دیتے، کسی بھی اسلامی معاشرے میں ایسا نہیں ہوتا، جس طرح بانی کی بہنوں کے ساتھ ہوا۔
وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی سرکاری پروٹوکول میں اڈیالہ جیل پہنچے، داہگل ناکے پر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے، سہیل آفریدی کے ہمراہ مینا خان و دیگر رہنما بھی موجود تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سہیل ا فریدی
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔