اسلام آباد، کار چوری میں ملوث 64 ملزمان گرفتار، کروڑوں روپے مالیت کی گاڑیاں برآمد
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
اسلام آباد پولیس کے اینٹی کار لفٹنگ یونٹ نے رواں سال کی سب سے بڑی کارروائیاں کرتے ہوئے کار اور موٹر سائیکل چوری میں ملوث متعدد گروہوں کا خاتمہ کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد پولیس کی کارروائی، دہرے قتل کا مجرم گرفتار
ایس ایس پی انویسٹی گیشن محمد عثمان طارق بٹ نے پولیس لائنز میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ انسدادِ کار و موٹر سائیکل چوری یونٹ نے مجموعی طور پر 18 گروہوں کے 40 اراکین سمیت 64 ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔
ایس ایس پی محمد عثمان طارق بٹ کے مطابق ملزمان سے 25 کروڑ روپے مالیت کی 112 گاڑیاں اور 32 موٹر سائیکلیں برآمد کی گئیں، جن کی چابیاں اصل مالکان کے حوالے کر دی گئی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ سیف سٹی کیمروں اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے نامعلوم کار چوروں کا سراغ لگایا گیا، جبکہ انسانی ذرائع اور ٹیکنیکل وسائل کے ذریعے متعدد گروہوں کو بے نقاب کیا گیا۔
جرائم میں کمی اور کریک ڈاؤن کا دائرہایس ایس پی انویسٹی گیشن نے بتایا کہ سال 2025 میں کار چوری کی وارداتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ گاڑی چھیننے اور چوری میں ملوث منظم گروہوں کی گرفتاری کے نتیجے میں سنیچنگ کے واقعات میں بھی واضح کمی آئی ہے۔
اسلام آباد پولیس نے کارروائیوں کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے پنجاب، خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر، بلوچستان اور گلگت بلتستان میں بھی کامیاب کریک ڈاؤن کیا۔ مختلف اضلاع سے چوری ہونے والی نئی اور پرانی ماڈل گاڑیاں بھی برآمد کی گئیں۔
ایس ایس پی انویسٹی گیشن نے کہا کہ اسلام آباد پولیس شہریوں کے تحفظ اور جرائم کے مکمل خاتمے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ مزید مؤثر اقدامات جاری رکھے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلام آباد پولیس ایس ایس پی انویسٹی گیشن کار چور محمد عثمان طارق بٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد پولیس ایس ایس پی انویسٹی گیشن کار چور ایس ایس پی انویسٹی گیشن اسلام آباد
پڑھیں:
پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
کراچی کے علاقے گلستان جوہر سے مطلوب منشیات فروش خاتون شیریں شرینہ کو بیٹوں سمیت گرفتار کرلیا گیا۔پولیس کے مطابق شیریں شرینہ ملزمہ کو دونوں بیٹوں کے ساتھ کامران چورنگی سے گرفتار کیا گیا، ملزمہ ہیروئن، چرس اور دیگر منشیات فروخت کرتی تھی۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمہ چند سال قبل گرفتار ہوکر جیل گئی تھی اور دو سال پہلے واپس آئی تھی، ملزمہ شیریں عرف شیرینہ کے خلاف 35 کے قریب مقدمات درج ہیں، ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سےدستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔پولیس حکام کا بتانا ہے کہ ملزمہ اپنے فلیٹ کی کھڑکی سے ڈائریکٹ ہیروئن سپلائی کرتی تھی، گرفتار ملزمہ اور ملزمان سے مذید تفتیش کی جارہی ہے۔