بہار الیکشن میں این ڈی اے کی بڑی برتری، مودی کی ریاست پر گرفت مضبوط
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
بھارت کی ریاست بہار میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے غیر حتمی نتائج کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی کے اتحاد نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کو واضح برتری حاصل ہوگئی ہے۔
ابتدائی نتائج کے مطابق 243 رکنی اسمبلی میں این ڈی اے 199 نشستوں پر آگے ہے، جبکہ حکومت بنانے کے لیے 122 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق بی جے پی 84 نشستوں پر سب سے آگے ہے، وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی جماعت جنتا دل (یونائیٹڈ) کو 78 نشستوں پر برتری حاصل ہے جبکہ چراغ پاسوان کی لوک جن شکتی پارٹی 22 نشستوں پر آگے ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن اتحاد مہاگٹھ بندھن صرف 50 نشستوں پر بڑھت رکھے ہوئے ہے، جبکہ کانگریس اب تک 7 نشستیں حاصل کرسکی ہے۔
اس سے قبل وزیر داخلہ امیت شاہ نے دعویٰ کیا تھا کہ این ڈی اے 160 نشستیں جیت کر دو تہائی اکثریت سے حکومت قائم کرے گا۔ ابتدائی برتری کے بعد یونین منسٹر گری راج سنگھ نے کہا کہ بہار میں کامیابی کے بعد اب اگلا ہدف مغربی بنگال ہوگا۔
انتخابی نتائج یہ بھی طے کریں گے کہ آیا نتیش کمار مسلسل پانچویں بار وزیر اعلیٰ کے عہدے پر برقرار رہیں گے یا نہیں۔
13 کروڑ آبادی والی بھارت کی غریب ترین ریاست بہار میں بے روزگاری اور غربت بڑے مسائل ہیں، جنہیں بنیاد بنا کر بی جے پی نے اپنی انتخابی مہم چلائی۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے ستمبر میں ریاست کے لیے 8 ارب ڈالر کے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان بھی کیا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر بہار میں بی جے پی اتحاد کو کامیابی ملتی ہے تو مستقبل میں دیگر اہم ریاستوں میں بھی پارٹی کے لیے راستہ ہموار ہوسکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نشستوں پر بہار میں کے مطابق
پڑھیں:
مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
بی جے پی کی کٹھ پتلی مودی سرکار کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ سامنے آنے لگا، جہاں بھارت میں نوجوانوں کی تحریک بےقابو ہونے کا اندیشہ بڑھ گیا ہے۔
بھارتی نوجوانوں نے مودی سرکارکو چیلنج کرتے ہوئے کاکروچ پارٹی کی جانب سے نئی دہلی میں احتجاج کی کال دے دی گئی ہے۔ خدشہ ہے کہ پارٹی آہستہ آہستہ زور پکڑتی جائے گی کیونکہ بھارت کے اندر بےتحاشا تضادات اور گروہ بندی پائی جاتی ہے ۔
بھارت میں مودی سرکار نے ان گروہ بندیوں کو کم کرنے کے بجائے ان کو مزید مذہبی بنیادوں پر ہوا دے دی ہے، جہاں نوجوان جو نسلی، ذات اور مذہب کی بنیاد پر دھتکارے جا چکے ہیں، انہیں بھارت میں اپنا مستقبل تاریک نظر آتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کے کاکروچ پارٹی بےحد مقبول ہوتی جا رہی ہے ۔
نیپال اور بنگلادیش کے بعد بھارت میں کاکروچ پارٹی کی جین زی انقلابی تحریک زورپکڑنے لگی ہے۔ عالمی جریدے رائٹرزکےمطابق کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دِپکے نے کہا ہے کہ ہم اس تحریک سے پیچھے نہیں ہٹیں گےاورمیں جلد بھارت آکراس تحریک کوآگے بڑھاؤں گا۔
ابھیجیت دِپکے کا کہنا ہے کہ خدشہ ہےکہ مجھےایئرپورٹ سے ہی گرفتارکرکےجیل بھیج دیا جائے گا لیکن مجھے کوئی پروا نہیں ہے۔
رائٹرز کے مطابق بے روزگاری،کرپشن اورپیپرلیک نے کروڑوں طلبہ کی زندگیوں کومذاق بنا دیا، یہی بحران اس تحریک کے اصل محرکات ہیں۔
سینئر وکیل پرشانت بھوشن کے مطابق مودی سرکاربھارت میں کسی بھی جین زی انقلاب سے بہت ڈری ہوئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں بڑھتی بے روزگاری اورکرپشن پر نوجوانوں کا غصہ تباہ حال نظام کے خلاف ان کا حقیقی ردِعمل ہے۔ بھارت کی گرتی ہوئی معاشی صورتحال، گرتی ساکھ اورمودی سرکارکی انتہا پسندانہ پالیسیاں عوامی غم و غصے کی بنیاد بن رہی ہیں۔