سرکاری ملازمین کو دھمکی دینے پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا الیکشن کمیشن میں طلب
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ہری پور میں ضمنی الیکشن کےدوران وفاقی سیکیورٹی ادارے تعینات کرنے کا فیصلہ کرلیا،چیف منسٹر خیبر پختونخوا ہ سہیل آفریدی اور امیدوار مسماۃ شہرناز عمر ایوب کو الیکشنز ایکٹ 2017ء اور ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی پر کل مورخہ 21 نومبر 2025 کو طلب کرتے ہوئے نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ ترجمان کے مطابق الیکشن کمیشن نے چیف منسٹر خیبر پختونخوا ہ سہیل آفریدی کےحویلیاں جلسے کے خطا ب کے دوران دیئے گئے بیان جس میں اُنہوں نے ضلعی انتظامیہ ، پولیس اور الیکشن میں تعینات عملہ کو دھمکایا اور جلسے میں موجود پبلک اور عمومی طور پرعوام کو اُکسانے پر نوٹس لیا ہے، اس موقع پر اُن کے ساتھ ایک مفرور مجر م بھی کھڑاتھا جس کی زوجہ الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں۔ صوبے کے چیف ایگزیٹو کے اس غیر ذمہ دارانہ اور رویہ کی وجہ سے نہ صرف این اے 18 ہری پور میں پُرامن ضمنی ا نتخاب کا انعقاد مشکل ہو گیا ہے ، بلکہ ضلعی انتظامیہ ، پولیس اور الیکشن ڈیوٹی پر مامور عملہ اورووٹروں کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہواہے۔ کمیشن نے حالات کی نزاکت کو سامنے رکھتے ہوئے صوبائی الیکشن کمشنر خیبر پختو نخوا کو حکم دیا کہ وہ اس سلسلے میں فوری طور پر چیف سیکرٹری اور آئی جی سے میٹنگ کریں اورضروری حفاظتی اقدامات کرنے کے بعد ا پنی رپورٹ الیکشن کمیشن کو پیش کریں۔ الیکشن کمیشن نے معاملے کی سنگینی کو مدِنظر رکھتے ہوئے چیف منسٹر خیبر پختونخوا ہ سہیل آفریدی اور امیدوار مسماۃ شہرناز عمر ایوب کو الیکشنز ایکٹ 2017ء اور ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی پر کل مورخہ 21 نومبر 2025 کو طلب کرتے ہوئے نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ مزید یہ بھی فیصلہ کیا کہ فوری طور پر سیکرٹری وزارت داخلہ کو چِٹھی ارسال کی جائے کہ حلقہ میں وفاقی سیکورٹی اداروں کی مدد سے فول پروف سیکورٹی انتظامات کیئے جائیں،تاکہ ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر ، ریٹرننگ ، دیگر انتخابی اہلکاروں ، ووٹروں اور پبلک کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔ اور Presiding Officers کی پولنگ سٹیشنز کی طرف اور الیکشن کے بعد ROآفس کی طرف اُنکی اور الیکشن مٹیریل کی Movement کو تحفظ دیا جاسکے۔ کمیشن نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ ضمنی انتخابات کے دوران کسی فرد، شخصیت یا پبلک آفس ہولڈر نے الیکشن کے پُرامن انعقاد میں مداخلت یا خلل ڈالنے کی کوشش کی تو اُنکے خلاف سخت قانونی کاروائی عمل میں لائے جائے گی۔صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب کو بھی اسی طرح ہدایات جاری کردی گئی ہیں کہ اگر فیڈرل یا صوبائی حکومت کا کو ئی بھی عہدیدار ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرے یا ضمنی الیکشن کوInfluence کرنے کی کوشش کرےتو آئین اور قانون کے مطابق سخت سے سخت کاروائی کی جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا الیکشن کمیشن اور الیکشن
پڑھیں:
سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
کراچی: سندھ حکومت نے سرکاری ملازمین کو مہنگائی کے اثرات سے ریلیف دینے کے لیے سفری الاؤنس اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں اس فیصلے کی منظوری دی گئی، جبکہ نئی شرحوں کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا۔
صوبائی کابینہ نے سرکاری ملازمین کے لیے ریلیف پیکیج، صحت، تعلیم، بنیادی ڈھانچے، گورننس اور غذائی تحفظ سے متعلق متعدد اہم فیصلوں کی منظوری بھی دی۔
بی پی ایس 1 سے 16 تک ملازمین کے لیے تفریقی الاؤنس
کابینہ نے بی پی ایس 1 سے 16 تک کے ملازمین کے لیے تفریقی الاؤنس 2026 کی منظوری دی ہے۔ یہ الاؤنس منجمد بنیادی پے اسکیل 2022، جو 30 جون 2026 تک نافذ تھا، پر 2 فیصد کی شرح سے ادا کیا جائے گا۔
حکومت کے مطابق اس الاؤنس کا مقصد وہ فرق ختم کرنا ہے جو 2025 میں سندھ حکومت کی جانب سے وفاقی حکومت کے مقابلے میں زیادہ تنخواہوں میں اضافے کے باعث پیدا ہوا تھا۔
سفری الاؤنس میں 50 فیصد اضافہ
سندھ کابینہ نے تمام صوبائی سرکاری ملازمین کے سفری الاؤنس میں 50 فیصد اضافے کی بھی منظوری دی ہے۔ نئی شرحیں درج ذیل ہوں گی:
گریڈ پرانا الاؤنس نیا الاؤنس
بی پی ایس 1 تا 4 1,785 روپے 2,678 روپے
بی پی ایس 5 تا 10 1,932 روپے 2,898 روپے
بی پی ایس 11 تا 15 2,856 روپے 4,284 روپے
بی پی ایس 16 اور اس سے اوپر 5,000 روپے 7,500 روپے
معذور ملازمین کے لیے خصوصی سہولت
کابینہ نے معذور سرکاری ملازمین کے لیے خصوصی سفری الاؤنس میں بھی اضافہ کرتے ہوئے اسے 6 ہزار روپے سے بڑھا کر 10 ہزار روپے ماہانہ کرنے کی منظوری دی ہے۔ یہ رقم معمول کے سفری الاؤنس کے علاوہ ادا کی جائے گی۔
اطلاق کب سے ہوگا؟
حکومت سندھ کے مطابق سفری اور تفریقی الاؤنس سے متعلق تمام منظور شدہ فیصلوں پر یکم جولائی 2026 سے عمل درآمد ہوگا اور یہ موجودہ قواعد و ضوابط کے تحت نافذ رہیں گے۔
دوسری جانب صوبائی کابینہ نے ایگزیکٹو الاؤنس دینے کی تجویز منظور نہیں کی۔ وزیر اطلاعات نے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس تجویز پر فی الحال اتفاق نہیں ہو سکا۔
سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد بڑھتی مہنگائی کے تناظر میں سرکاری ملازمین کو مالی ریلیف فراہم کرنا اور ان کے سفری اخراجات میں کمی لانا ہے، جبکہ آئندہ بھی ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔