سونے سے تیار ‘امریکا نامی ٹوائلٹ کی نیلامی، قیمت آپ کو دنگ کر دے گی!
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
نیویارک میں نیلام ہونے والے ایک منفرد ٹوائلٹ کی قیمت نے سب کو حیران کن حد تک چکرا دیا ہے۔ یہ ٹوائلٹ، جو 18 قیراط سونے سے تیار کیا گیا تھا، ایک کروڑ 20 لاکھ ڈالر میں نیلام ہو گیا۔
اگر آپ ابھی تک یہ سوچ رہے ہیں کہ سونے سے تیار یہ ٹوائلٹ صرف کسی میوزیم کی نمائش کے لیے بنایا گیا ہے، تو ہم آپ کی حیرانی کو دور کر دیتے ہیں۔ یہ ٹوائلٹ صرف نمائش کے لیے نہیں بلکہ استعمال کے لیے بنایا گیا تھا۔ اس ٹوائلٹ کا نام “امریکا” رکھا گیا ہے، اور اس کا وزن تقریباً 101 کلوگرام (223 پونڈ) ہے۔
یہ 18 قیراط سونا استعمال کر کے تیار کیا گیا کموڈ اطالوی فنکار ماریزیو کیٹیلان کی تخلیق ہے۔ 2016 میں، اس کا پہلا ورژن نیو یارک کے مشہور گگن ہائیم میوزیم کے عوامی باتھروم میں نصب کیا گیا تھا۔ لیکن تین سال بعد ایک حیران کن واقعہ پیش آیا، جب چوروں کے ایک گروہ نے اسے آکسفورڈ شائر محل سے چوری کر لیا۔
تاہم، اب اس قیمتی کموڈ کو امریکی برانڈ Ripley’s Believe It or Not نے خرید لیا ہے، اور اس کی نیلامی ایک شاندار قیمت پر ہوئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔