سونے کی قیمت 4 لاکھ 26 ہزار 562 روپے فی تولہ پر برقرار
اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT
سونے کی عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں آج قیمتوں میں استحکام دیکھا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت بغیر کسی تبدیلی کے 4ہزار 42 ڈالر کی سطح پر مستحکم رہنے کی وجہ سے مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی جمعہ کے روز 24قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت بغیر کسی تبدیلی کے 4لاکھ 26ہزار 562 روپے کی سطح پر مستحکم رہی۔ اسی طرح مقامی سطح پر فی 10 گرام سونے کی قیمت بھی بغیر کسی تبدیلی کے 3لاکھ 65ہزار 708روپے کی سطح پر مستحکم ہے۔ سونے کی قیمتوں میں استحکام کے برعکس ملک میں فی تولہ چاندی کی قیمت 107روپے کی کمی سے 5ہزار 222روپے اور فی 10 گرام چاندی کی قیمت 91روپے کی کمی سے 4ہزار 477روپے کی سطح پر آگئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سونے کی قیمت کی سطح پر
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔