دبئی ائیر شو میں طیارہ گرنے کا واقعہ، بھارتیوں کی اپنی فضائیہ پر تنقید، ائیر چیف کے استعفے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT
دبئی ائیر شو میں طیارہ گرنے کا واقعہ، بھارتیوں کی اپنی فضائیہ پر تنقید، ائیر چیف کے استعفے کا مطالبہ WhatsAppFacebookTwitter 0 21 November, 2025 سب نیوز
دبئی (سب نیوز) ائیر شو کے دوران بھارت کا جنگی طیارہ تیجس گرنے کے بعد بھارتیوں نے اپنی فضائیہ کو آڑے ہاتھوں لے لیا اور ائیر چیف کے استعفے کا مطالبہ کر دیا۔
جمعہ کو دبئی ائیر شو کے دوران بھارت کا جنگی طیارہ گر کر تباہ ہوگیا ، بھارتی طیارہ ایروبیٹک اسٹنٹ کے دوران گرا۔بھارتی ائیرفورس نے طیارہ گرنیاور پائلٹ کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے۔بھارتی ائیرفورس کے مطابق بھارتی لڑاکاطیارہ تیجس مقامی وقت کے مطابق 2بج کر 10 منٹ پر گرا، حادثے کی وجہ جاننے کے لیے تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی جا رہی ہے۔
چند روز قبل ہی دبئی ائیر شو کے دوران بھارتی لڑاکا طیارے کی ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں تیجس طیارے کے فیول ٹینک سے تیل لیک ہوتے دیکھا گیا تھا۔طیارہ تیجس گرنے کے بعد سوشل میڈیا پر بھارتی صارفین نے اپنی فضائیہ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور ائیر چیف کے استعفے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔انوشی تیواری نامی بھارتی صارف نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ یہ پوری دنیا کے سامنے بھارت کے لیے ایک بہت بڑی توہین ہے۔ بھارتی ائیر فورس کے سربراہ کو فورا عہدے سے ہٹا دینا چاہیے۔
ایک اور بھارتی صارف تیجسوی پراکاش نے سوال اٹھایا کہ اگر ہمارے طیارے بنیادی ایروبیٹک اسٹنٹ بھی نہیں کر سکتے تو یہ اس سے بھی بڑا سوال پیدا کرتا ہے، کیا ہمارے پائلٹس کو ان طیاروں پر مناسب تربیت دی جا رہی ہے؟،اسی صارف نے بھارتی ائیر چیف پرتنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب ہمارا ائیر چیف ڈسپلن، تربیت اور تکنیکی تیاری پر بات کرنے کے بجائے زیادہ تر ڈانس کلپس میں نظر آئے، تو صاف ظاہر ہے کہ قیادت کے اعلی سطح پر کچھ نہ کچھ غلط ہو رہا ہے۔یاد رہے کہ دو سال سے بھی کم عرصے میں تیجس طیاریکا یہ دوسرا حادثہ ہے اور مارچ 2024 میں تیجس لڑاکا طیارہ راجستھان کے شہرجیسلمیرمیں گرکرتباہ ہواتھا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرفیصل آباد، کیمیکل فیکٹری میں بوائلر پھٹنے سے دھماکا، جاں بحق افراد کی تعداد 20ہوگئی اگلی خبرخیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 13بھارتی سرپرست خوارج ہلاک ماہ جمادی الثانی کا چاند نظر نہیں آیا،یکم جمادی الثانی 1437ھ 23نومبر بروز اتوار ہوگی دبئی ائیر شو، بھارتی لڑاکا طیارہ گرنے کے بعد ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ کے شیئرز بھی گرگئے خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 13بھارتی سرپرست خوارج ہلاک فیصل آباد، کیمیکل فیکٹری میں بوائلر پھٹنے سے دھماکا، جاں بحق افراد کی تعداد 20ہوگئی دبئی ائیر شو، تیجس طیارے کی تباہی نے بھارتی دفاعی سازوسامان کی صلاحیتوں پر سوالات اٹھا دیے سی ڈی اے بورڈ کا 17واں اجلاس،جناح گارڈن فیز ٹوکیلئے این او سی جاری کرنے کے معاملے پر ٹیکنیکل کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اپنی فضائیہ
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔