پیپلز پارٹی لاہور آفس کو 8لاکھ 74ہزار کا نوٹس جاری
اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور(آئی این پی) پاکستان پیپلز پارٹی نے حکومتی اداروں پر انتقامی کارروائیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاہور کی بیوروکریسی سیاسی عدم استحکام پیدا کر کے پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کے اتحاد کو شد و مد سے توڑنے کی کوشش کررہی ہے ،ٹریفک پولیس پارٹی کی ٹرانسپورٹ پر لگی فلیکسز کو زبردستی اتروا رہی ہے جبکہ پیپلز پارٹی لاوہر کے دفتر کو ایل ڈی اے نے 8لاکھ 74ہزار کا نوٹس سیاسی سرگرمی کرنے پر بھیجا ہے،24گھنٹے میں مہم بند نہ ہوئی تو کمشنر،ڈپٹی کمشنر اور سی ٹی او آفس کا گھیرا ئو کریں گے۔ان خیالات کا اظہار پیپلز پارٹی کے رہنمائوں فیصل میر،مجید غوری نے جوہر ٹائون آفس میں سبط حسن اور شاہد عباس ایڈوکیٹ کیساتھ ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر رم فاروق،عزیز عباسی،شہباز درانی اور اللہ دتہ وٹو بھی موجود تھے۔فیصل میر نے کہا کہ پیپلز پارٹی اس وقت (ن) لیگ کی اتحادی جماعت ہے اور ہم اپنی قیادت کی ہدایت پر اس اتحاد کو ساتھ لیکر چل رہے ہیں۔ہم وزیر اعظم شہباز شریف سے کہنا چاہتے ہیں کہ پنجاب حکومت کے خلاف بیوروکریسی سازش کر رہی ہے۔ڈپٹی کمشنر اور سی ٹی او لاہور کے متعلق تحقیقات کرائی جائیں ،لاہور انتظامیہ پیپلز پارٹی کی سیاسی سرگرمیوں پر روک ٹوک کرتی ہے۔جبکہ مجید غوری کو فون کر کے پیپلز پارٹی کی ممبر سازی مہم روکنے کی دھمکیاں دی گئی ہیں ۔انہوں نے زور دیکر کہا کہ لاہور میں جگہ جگہ (ن) لیگ کے دفاتر ہیں،وہ اس مہم میں شامل نہیں ہو سکتی،سی ٹی او اور ایل ڈی اے کی بدنیتی اس سے ظاہر ہوتی ہے کہ انہوں نے 80ایچ ماڈل ٹائون کو کوئی جرمانہ یا نوٹس نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کی طرف سے (ن) لیگ کا نام استعمال کر کے یہ سب کچھ کیا جا رہا ہے۔ہم کسی سرکاری دفتر پر نہیں اپنی پراپرٹی پر اشتہارات لگاتے ہیں، 24گھنٹے میں یہ مہم بند نہ ہوئی تو کمشنر،ڈپٹی کمشنر اور سی ٹی او آفس کا گھیرائو کریں گے ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ سی ٹی او کے خاندان کے سوشل میڈیا اکائونٹس چیک کروائے جائیں۔پیپلز پارٹی کے رہنمائوں نے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف لاہور انتظامیہ کو فوری معطل کر کے تحقیقات کرائیں۔پیپلز لائرز فورم لاہور ڈویژن کے صدر شاہد عباس ایڈوکیٹ نے کہا کہ ہمارے ورکروں کے حوصلے ایسی حرکتوں سے پست نہیں کیے جا سکتے،ہمیں حق حاصل ہے کہ بطور پاکستانی اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھیں۔انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 16کے تحت ہم اپنے دفتر ،گھر اور گاڑی پر پارٹی کا جھنڈا اور بینرز لگا سکتے ہیں۔سیاسی انتقامی میں ملوث سرکاری ملازمین کیخلاف قانونی چارہ جوئی کریں گے۔سبط حسن نے کہا کہ بار بار پیپلز پارٹی کا راستہ روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے،پنجاب کی بیوروکریسی ہوش کے ناخن لے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی نے کہا کہ انہوں نے سی ٹی او
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔