امریکہ کیریبین کی صورتِ حال کو غیر مستحکم نہ کرے، روس
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
اسپوتنیک کے مطابق انہوں نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں وضاحت کی کہ روس شمالی کوریا کا شکر گزار ہے، کورسک کے علاقے میں دھماکہ خیز مواد کے ماہرین کی کارروائیوں کے سبب۔ اس روسی عہدیدار نے گروپ 20 کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ روس جی 20 کے کام میں دلچسپی رکھتا ہے، لیکن اس کے ایجنڈے کو سیاسی بنانے کے خلاف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کرملین کے ترجمان نے جمعے کے روز شمالی کوریا کا شکریہ ادا کیا، جو کورسک کے علاقے کو یوکرینی افواج کی یلغار سے آزاد کرانے میں مدد کے سبب تھا۔ روسی صدارتی محل (کرملین) کے ترجمان دیمیتری پسکوف نے امریکہ کی جانب سے وینزوئیلا کے خلاف بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا۔ پسکوف نے کرملین میں اپنی پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ روس کو امید ہے کہ امریکہ ایسے اقدامات نہیں کرے گا جو کیریبین اور وینزوئیلا کے اردگرد کی صورتِ حال کو غیر مستحکم کریں۔ اسپوتنیک کے مطابق انہوں نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں وضاحت کی کہ روس شمالی کوریا کا شکر گزار ہے، کورسک کے علاقے میں دھماکہ خیز مواد کے ماہرین کی کارروائیوں کے سبب۔ اس روسی عہدیدار نے گروپ 20 کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ روس جی 20 کے کام میں دلچسپی رکھتا ہے، لیکن اس کے ایجنڈے کو سیاسی بنانے کے خلاف ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔