ماسکو کے اعلیٰ عہدیدار کو قتل کرنے کی یوکرینی کوشش ناکام بنادی، روس کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
روس کی سکیورٹی سروس نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین نے ایک اعلیٰ روسی حکومتی عہدیدار کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم اس منصوبے کو ناکام بنا دیا گیا۔
ایف ایس بی کے مطابق یوکرینی ایجنٹس مبینہ طور پر اس وقت حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے جب مذکورہ روسی اہلکار ماسکو کے قریب اپنے رشتے داروں کی قبروں پر حاضری دے رہا تھا۔
ایف ایس بی نے مزید دعویٰ کیا کہ یوکرین روس کے اندر اسی نوعیت کے مزید حملوں کی تیاری کر رہا ہے۔ تاہم یوکرین کی سکیورٹی سروس نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ روس “مسلسل جھوٹی خبریں” گھڑ رہا ہے۔
یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کیف ایک بار پھر روسی فضائی حملوں کی زد میں رہا۔ یوکرینی حکام کے مطابق تازہ حملوں میں کم از کم چار افراد ہلاک اور 27 زخمی ہوئے، جن میں دو بچے اور ایک حاملہ خاتون بھی شامل ہیں۔ شہر کے مختلف علاقوں میں 15 سے زائد عمارتیں اور ایک طبی مرکز بھی متاثر ہوا۔
دوسری جانب یوکرین کے ڈرون حملے نے روس کے بندرگاہی شہر نووروسیئسک میں ایک آئل ڈپو کو نقصان پہنچایا، جبکہ چار افراد زخمی ہوئے۔
روس اور یوکرین کی جنگ کے دوران ٹارگٹ کلنگز اور اغوا کی کارروائیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ مانیٹرنگ گروپ اے سی ایل ای ڈی کے مطابق 2025 کے پہلے تین کوارٹرز میں روس کے اندر ہونے والی ٹارگٹ کلنگز پچھلے تین سال کے مجموعی اعداد سے زیادہ رہی ہیں۔
گزشتہ مہینوں میں کئی روسی افسران کار بم دھماکوں اور خفیہ کارروائیوں میں مارے گئے، جن کی ذمہ داری یوکرین نے قبول کی۔ دوسری جانب یوکرین میں بھی سکیورٹی اہلکاروں کے قتل کے واقعات پیش آئے ہیں، جن کا الزام کیف نے روسی ایجنسیوں پر عائد کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
سینٹ پیٹرزبرگ روس کا سب سے بڑا اور عالمی سطح پر اہم اقتصادی ایونٹ، سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 2026ء کل 3 جون سے روس کے تاریخی شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں شروع ہو رہا ہے، جس میں دنیا بھر کے 130 سے زائد ممالک کے حکومتی، کاروباری اور اقتصادی راہنما شرکت کریں گے، پاکستان بھی فورم میں اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ شرکت کر رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستانی وفد کی قیادت وفاقی وزیر توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) علی پرویز ملک کریں گے، وفد میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر، روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی، سفارتخانے کی وزیر تجارت و سرمایہ کاری شبانہ ممتاز، قونصلر حبیب منیر، سیکنڈ سیکرٹری جوشوا ایڈون آرتھر اور سینٹ پیٹرزبرگ میں پاکستان کے اعزازی قونصل جنرل عبدالرؤف رند بھی شامل ہیں۔ 4 روزہ فورم میں عالمی معیشت، توانائی، تجارت، سرمایہ کاری، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، صنعتی ترقی، ٹرانسپورٹ، خوراک اور بین الاقوامی اقتصادی تعاون سمیت متعدد اہم موضوعات پر اعلیٰ سطحی اجلاس، مباحثے اور کاروباری ملاقاتیں منعقد ہوں گی۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن فورم کے مرکزی پلینری اجلاس سے خطاب کریں گے، جبکہ دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے حکومتی راہنما، وزراء، سرمایہ کار، صنعتکار اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے بھی فورم میں شریک ہوں گے۔ پاکستانی وفد کی شرکت کو روس اور پاکستان کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے، توقع ہے کہ فورم کے دوران پاکستانی نمائندے روسی حکام، سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے، جن میں توانائی، پیٹرولیم، صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بات چیت ہوگی۔ مبصرین کے مطابق پاکستان اس وقت توانائی، معدنیات، انفراسٹرکچر اور صنعتی شعبوں میں بیرونی سرمایہ کاری کے حصول پر خصوصی توجہ دے رہا ہے جبکہ روس کے ساتھ اقتصادی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنا بھی حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔
فورم میں شرکت پاکستان کو نہ صرف روس بلکہ دیگر ممالک کے سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کے ساتھ براہ راست رابطوں کا موقع فراہم کرے گی، ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بین الاقوامی پلیٹ فارمز پاکستان کے لیے سرمایہ کاری، برآمدات اور اقتصادی شراکت داریوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔واضح رہے کہ سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 3 سے 6 جون تک جاری رہے گا اور اسے روس کا سب سے بڑا بین الاقوامی اقتصادی فورم تصور کیا جاتا ہے، اس سال فورم کا موضوع "عملی مکالمہ ایک مستحکم مستقبل کی جانب"رکھا گیا ہے، جس میں عالمی معیشت کو درپیش چیلنجز اور مستقبل کے مواقع پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔