ماسکو میں انسان نما روبوٹ افتتاحی تقریب میں منہ کے بل گر پڑا، ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
روس میں مصنوعی ذہانت سے چلنے والے پہلے انسان نما روبوٹ کی افتتاحی تقریب اس وقت دلچسپ صورتِ حال اختیار کر گئی جب روبوٹ اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکا اور اسٹیج پر منہ کے بل گر پڑا۔
واقعہ اس وقت پیش آیا جب روبوٹ نے حاضرین کی جانب ہاتھ ہلانے کے لیے اپنا دایاں بازو اٹھایا، مگر حرکت کے ساتھ ہی اس کے توازن کا نظام فیل ہوگیا اور روبوٹ نیچے جا گرا۔
واقعے کے فوراً بعد اسٹیج پر موجود دو افراد نے روبوٹ کو اٹھانے میں مدد کی۔
روسی میڈیا کے مطابق روبوٹ بنانے والی ٹیکنالوجی کمپنی کے سی ای او ولادیمیر ویتوخن نے کہا کہ وہ اس واقعے کو ایک قیمتی تجربہ سمجھتے ہیں اور مستقبل میں اس کی کارکردگی مزید بہتر بنائی جائے گی۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ روبوٹ میں اس وقت 77 فیصد روسی ساختہ پرزے استعمال کیے گئے ہیں، جبکہ ہدف اسے بڑھا کر 93 فیصد تک لے جانا ہے۔
روبوٹ بنیادی طور پر تین انسانی افعال انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے جن میں چلنا، اشیاء اٹھانا اور انسانوں سے بات چیت کرنا شامل ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
میکسیکو کی معروف بیوٹی انفلوئنسر اور سوشل میڈیا کانٹینٹ کریئٹر 30 سالہ ایڈریانا گارشیا (Adriana Garcia)کاسمیٹک سرجری کے دوران پیش آنے والی پیچیدگیوں کے باعث چل بسی۔
رپورٹس کے مطابق ایڈریانا گارشیا کا منگل کے روز ریاست سینالووا کے ایک نجی کلینک میں کاسمیٹک آپریشن کیا جا رہا تھا، جہاں دورانِ سرجری پیچیدگیاں پیدا ہونے کے بعد ان کی موت واقع ہوگئی،مقامی حکام نے تاحال موت کی سرکاری وجہ جاری نہیں کی، جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
مزیدپڑھیں:عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
واقعے کے بعد حکام نے سرجری کے دوران پیش آنے والے حالات اور ممکنہ طبی غفلت کے پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ایڈریانا گارشیا کے انسٹاگرام اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر 90 ہزار سے زائد فالوورز تھے، ان کے انتقال کی تصدیق میکسیکو کی کمپنی نے بھی کی، جس کے ساتھ وہ بطور انفلوئنسر کام کرتی تھی۔