پیرس:لوورمیوزیم میں1 کروڑ 20لاکھ ڈالر کی ڈکیتی
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پیرس: پیرس کے لوور میوزیم کے ناقص سیکورٹی سسٹم کے باعث میوزیم کے اندر 7 منٹ میں1 کروڑ 20لاکھ ڈالرز کی ڈکیتی کا انکشاف ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق تفتیش کے دوران پتا چلا کے اتنے بڑے پیمانے پرہونے والی ڈکیتی کی وجہ دراصل سیکورٹی سسٹم کا پاس ورڈ انتہائی آسان بتایاجاتا ہے۔
اعلیٰ حکام کے مطابق تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ میوزیم کے سیکورٹی سسٹم کے پاس ورڈ کا اندازہ باآسانی لگایا جاسکتا تھا۔واضح رہے کہ اس کمزوری کی نشاندہی پہلی بار 2014 ءمیں بھی کی گئی تھی۔ آڈٹ رپورٹ میں میوزیم کے سائبر سیکورٹی نظام میں سنگینی کی دوسری وجہ یہ تھی کہ سسٹم میں اہم حفاظتی نظام کے تحفظ کے لیے 2 دہائیوں پرانے سافٹ ویئر پر انحصار کرنا شامل تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: میوزیم کے
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔