وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کا پہلا اہم فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
اسلام آباد میں نئی قائم شدہ وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان نے اپنے منصب کا پہلا باضابطہ حکم جاری کردیا۔
اس تاریخی فیصلے کے تحت عدالت کے انتظامی ڈھانچے کی تشکیل کا آغاز ہوگیا ہے، جو مستقبل میں آئینی مقدمات کے نظام کو منظم بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ چیف جسٹس کی جانب سے نئے عہدوں پر تقرریاں عمل میں لائی گئیں۔
جاری کیے گئے حکم کے مطابق سابق ڈسٹرکٹ اور سیشن جج محمد حفیظ کو وفاقی آئینی عدالت کا پہلا رجسٹرار تعینات کیا گیا ہے۔ ان کی تعیناتی سے عدالت کے انتظامی معاملات کو باقاعدہ بنیادوں پر چلانے کا عمل شروع ہو جائے گا۔ اس تقرری کے ساتھ نئے ادارے کی فعالی میں مزید تیزی آنے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔
عدالتی ذرائع کے مطابق چیف جسٹس امین الدین خان نے مظہر بھٹی کو اپنا سیکرٹری بھی مقرر کردیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد رجسٹرار کی تقرری کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس میں واضح کیا گیا کہ محمد حفیظ اللہ وفاقی آئینی عدالت کے پہلے رجسٹرار کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ ان تقرریوں کے بعد عدالت کا ابتدائی ڈھانچہ مکمل سمجھا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل وفاقی آئینی عدالت چیف جسٹس عدالت کے
پڑھیں:
کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
کراچی کے علاقے ڈیفنس میں زیادتی کا شکار غیر ملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
کراچی میں درخشاں تھانے کی حدود میں امریکی خاتون سے زیادتی کے مقدمے کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں ہوئی پولیس نے گرفتار ملزم جیسپر عرف آدی محمود کو عدالت میں پیش کیا۔
متاثرہ خاتون نے عدالت میں زیر دفعہ 164 کا بیان ریکارڈ کروایا، متاثرہ خاتون نے ملزم کو معاف کرنے کا بیان دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ میں ملوث ملزم آدی محمود کو گرفتار کرلیا ہے، ملزم تھانا درخشاں میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے صفائی کا کام کر رہا تھا۔
خاتون نے بیان میں کہا کہ پولیس افسر نے اس کا دستخط شدہ بیان جلادیا، پولیس افسر نے کہا کہ مقدمہ درج کروائیں ورنہ ہمارے لیے مشکل ہوجائے گی۔
متاثرہ خاتون نے کہا کہ ملزم کی زندگی خراب نہیں کرنا چاہتی۔
عدالت نے متاثرہ خاتون کا بیان کیس کا حصہ بنادیا جبکہ عدالت نے ملزم جیسپر کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
عدالت نے تفتیشی افسر کو ملزم کی عمر کے تعین سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔