پاکستان کی وفاقی آئینی عدالت (ایف سی سی پی) کو جمعہ کے روز سندھ ہائی کورٹ (ایس ایچ سی) کے ایک فیصلے کے خلاف پہلی مرتبہ اپیل موصول ہوئی ہے، جس کا اندراج اس کے لیے قائم کیے گئے خصوصی فائلنگ اور انفارمیشن ڈیسک کے باضابطہ افتتاح کے بعد کیا گیا ہے۔

نجی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایف سی سی پی کے رجسٹرار محمد حفیظ اللہ خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) کے احاطے میں اس ڈیسک کا افتتاح کیا، ایف سی سی پی کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ اس ڈیسک کا قیام عوامی سہولت میں بہتری اور عدالتی خدمات تک رسائی میں اضافہ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

افتتاح کے موقع پر ڈیسک کو دو نئے مقدمات موصول ہوئے، جس سے اس کے عملی کام کا باضابطہ آغاز ہو گیا ہے۔

یہ ڈیسک کئی مقاصد کے لیے قائم کیا گیا ہے، جن میں ایف سی سی پی کے لیے نئے مقدمات کا اندراج، سائلین، وکلا اور عام افراد کو معلومات اور رہنمائی فراہم کرنا، اور عدالتی ریکارڈ کی مصدقہ نقول کے لیے درخواستیں وصول کرنا شامل ہے۔

انفارمیشن ڈیسک کے قیام سے قبل وکلا کو مشکلات کا سامنا تھا، کیوں کہ انہیں معلوم نہیں تھا کہ اپیلیں یا درخواستیں کہاں جمع کرانی ہیں۔

افتتاحی تقریب میں شریک جسٹس علی باقر نجفی نے اس اقدام کو عدالتی رسائی اور انتظامی کارکردگی کو مضبوط بنانے میں ایک تاریخی سنگ میل قرار دیا۔

ایف سی سی پی نے عدالت کے اوقاتِ کار سے متعلق ایک باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کیا، تاکہ تمام متعلقہ فریقین کو وضاحت اور آسان رسائی مل سکے۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ وفاقی عدالت ملک بھر کے سائلین کو بہتر سروس ڈیلیوری، شفافیت اور سہولت فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

ایس ایچ سی کے فیصلے کے خلاف اپیل ایک خاندانی جائیداد کے تنازع سے متعلق ہے، جسے غلام شاہ عباسی نے ذاتی طور پر دائر کیا ہے، انہوں نے ہراسانی کے تدارک اور آئین کے تحت ملنے والے بنیادی حقوق کے تحفظ کی استدعا کی ہے۔

اپیل کنندہ نے وفاقی عدالت سے درخواست کی ہے کہ وہ 8 ستمبر کو ایس ایچ سی کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے، جس میں یہ کہہ کر مقدمہ نمٹا دیا گیا تھا کہ معاملہ نجی نوعیت کے سول تنازع سے متعلق ہے۔

انہوں نے ایف سی سی پی سے صوبہ سندھ کی حکومت کو مناسب تحفظ فراہم کرنے اور ان کے اہلِ خانہ کو ہراسانی یا جسمانی نقصان پہنچانے سے روکنے کا حکم دینے کی بھی درخواست کی۔

معاملہ بنیادی طور پر وراثتی جائیداد کے ایک خاندانی تنازع سے متعلق ہے، جو درخواست گزار کے مرحوم والد کی چھوڑی ہوئی ایک 3 منزلہ رہائشی عمارت اور اس سے ملحقہ دکانوں پر مشتمل ہے، جو حیدرآباد میں واقع ہے۔

درخواست گزار کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اپنے والد نور محمد عباسی (متوفی 22 جولائی 2003) کی چھوڑی ہوئی وراثتی جائیداد میں اپنا قانونی حصہ مانگا تو اہلِ خانہ ان کے مخالف ہو گئے، جو ان کے بقول اس تنازع کی بنیاد ہے۔

اپیل کنندہ نے یہ الزام بھی لگایا کہ انہیں ان کے رشتہ داروں نے دھوکے سے حیدرآباد بلایا تاکہ وراثتی جائیداد میں حصہ دینے کا جھانسہ دیا جا سکے، مگر جب وہ سٹیزن کالونی گیٹ، حیدرآباد پہنچے تو انہیں مبینہ طور پر اغوا کر لیا گیا اور بعد ازاں 15 دن تک ایم کے (مجنوں خان) اسپتال کے نشہ آور مریضوں کے وارڈ میں غیر قانونی طور پر قید رکھا گیا تاکہ ان کے خلاف جھوٹی بیان بازیاں تیار کی جا سکیں۔

انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ سندھ ریونیو بورڈ کراچی کے کمشنر کی جانب سے انہیں دھمکایا اور ہراساں کیا جا رہا ہے، اپیل کنندہ کے مطابق 29 اپریل 2024 کو اس حوالے سے آرام باغ تھانے میں شکایت درج کرائی گئی تھی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ایف سی سی پی انہوں نے ایچ سی کے لیے گیا ہے

پڑھیں:

اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ میں منشیات برآمدگی کیس میں جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف پر اظہار برہمی  کرتے ہوئے کہاکہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں، کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں،اے این ایف کیا کررہا ہے ، ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیئے جاتے ہیں،ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کیساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔ 

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں منشیات برآمدگی کیس میں ملزمہ کی درخواست ضمانت پرسماعت ہوئی،جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے سماعت کی،ملزمہ کے وکیل نے عدالت کے رو برو اے این ایف ریڈکی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی،عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم  دیدیا۔

ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار

وکیل نے کہاکہ واضح دیکھا جا سکتا ہے اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آیا، خودمنشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایاگیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔

اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کردی،جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہاکہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آ رہے ہیں،وکیل اے این ایف نے کہاکہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کئے گئے ریڈ کی ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہاکہ اے این ایف کے 10اہلکار تھے مگر 2لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں؟ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی،وکیل احسن بھون نے کہاکہ گارڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیاگیا ہے،

پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف پر اظہار برہمی  کرتے ہوئے کہاکہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں ،خداکا خوف کریں، کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں،اے این ایف کیا کررہا ہے ، ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیئے جاتے ہیں،ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کیساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔ 

جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ جوانی ہمیشہ نہیں رہتی، کچھ خیال کیا کریں۔سپریم کورٹ نے  5لاکھ روپے مچلکوں کے عوض ملزمہ کی ضمانت منظورکرلی۔

لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی

مزید :

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • میرب علی سرجری کے بعد اسپتال منتقل، مداحوں سے صحت یابی کی دعاؤں کی اپیل
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی