آئینی عدالت کا ججز ٹرانسفر کیس، انٹراکورٹ اپیلیں 24 نومبر کو سماعت کیلئے مقرر
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
اسلام آباد:(نیوزڈیسک)وفاقی آئینی عدالت نے ججز ٹرانسفر کیس میں انٹراکورٹ اپیلیں 24 نومبر کو مقرر کرنے کا فیصلہ کیا۔
ذرائع کے مطابق چیف جسٹس امین الدین کی سربراہی میں چھ رکنی لارجر بینچ سماعت کرے گا، جسٹس عامر فاروق بینچ کا حصہ نہیں ہوں گے۔
عدالتی ذرائع نے بتایا ہے کہ جسٹس عامر فاروق ججز کی درخواست پر بطور چیف جسٹس ہائی کورٹ رائے کا اظہار کر چکے ہیں، اسلام آباد ہائی کورٹ ججز اور بار ایسوسی ایشنز نے سپریم کورٹ کا فیصلہ چیلنج کر رکھا ہے۔
پانچ رکنی آئینی بینچ نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججز کا تبادلہ و سنیارٹی درست قرار دی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔