ملک کی پہلی وفاقی آئینی عدالت نے مقدمات کی سماعت کا آغاز کردیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: ملک کی پہلی وفاقی آئینی عدالت نے مقدمات کی سماعت شروع کر دی ہے۔
وفاقی آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس امین الدین خان نے آئینی عدالت کے لیے تین مختلف بینچ تشکیل دیے ہیں تاکہ عدالتی کاموں کو مؤثر انداز میں تقسیم کیا جا سکے۔
بینچ ون میں چیف جسٹس امین الدین خان کے علاوہ جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس ارشد حسین شامل ہیں، جبکہ بینچ دو میں جسٹس حسن رضوی اور جسٹس کے کے آغا خدمات انجام دے رہے ہیں۔ بینچ تین میں جسٹس عامر فاروق اور جسٹس روزی خان شامل ہیں۔
وفاقی آئینی عدالت کے بینچ ون نے چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے کمرہ عدالت نمبر دو میں اپنی پہلی سماعت کا باقاعدہ آغاز کیا ہے۔ اس سے عدالت کے فعال ہونے اور آئینی معاملات کی جلد سماعت کے امکانات میں اضافہ ہوا ہے۔
یہ عدالت ملک کے آئینی معاملات میں اہم کردار ادا کرے گی اور مختلف مقدمات کی سنوائی کو شفاف اور مؤثر بنائے گی۔ عدالت کے قیام سے آئندہ آئینی معاملات کے حل میں تیزی آنے کی توقع ہے، جس سے ملک کے عدالتی نظام کو مضبوطی حاصل ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: آئینی عدالت عدالت کے
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔