ججز ٹرانسفر کیس: آئینی عدالت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججوں کی انٹرا کورٹ اپیل نمٹادی
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کی جانب سے ججوں کے تبادلے سے متعلق معاملے پر دائر انٹرا کورٹ اپیل سپریم کورٹ کو واپس بھجوانے کے حوالے سے اہم پیش رفت ہوئی ہے۔
سپریم کورٹ میں جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں قائم چھ رکنی آئینی بینچ نے پیر کے روز کیس کی سماعت کرتے ہوئے ججز کی عدم پیروی کے باعث درخواست نمٹا دی۔
سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے 5 ججز کی جانب سے دائر انٹرا کورٹ اپیل کے سلسلے میں کوئی بھی وکیل یا نمائندہ پیش نہیں ہوا۔
یہ بھی پڑھیں:
عدم پیروی کے باعث بینچ نے درخواست کو نمٹاتے ہوئے کہا کہ چونکہ درخواست گزاروں کی جانب سے کارروائی کو آگے بڑھانے میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی گئی، اس لیے مزید کارروائی کی ضرورت نہیں رہتی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے 5 ججز نے چند ماہ قبل اپنے تنازعات اور شکایات سے متعلق ایک خط کے پس منظر میں مختلف آئینی سوالات سپریم کورٹ میں اٹھائے تھے۔
ان میں ججز کی ٹرانسفر کے اختیارات، وفاقی آئینی عدالت کے قیام یا دائرہ اختیار سے متعلق ابہام، اور اعلیٰ عدلیہ میں مبینہ مداخلت کے معاملات شامل تھے۔
مزید پڑھیں:
ان ججز نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواستوں کی کارروائی کے دوران انٹرا کورٹ اپیل کو سپریم کورٹ بھجوانے کی استدعا کی تھی تاکہ اس اہم آئینی مسئلے پر اعلیٰ ترین عدالت رہنما فیصلے جاری کرے۔
تاہم، بعد ازاں ججز کی جانب سے اس معاملے کی پیروی نہیں کی گئی، جس کے نتیجے میں سپریم کورٹ نے آج کی سماعت میں درخواست نمٹادی۔
قانونی ماہرین کے مطابق، یہ فیصلہ ججز کے اس معاملے پر مستقبل کے لائحۂ عمل اور آئینی عدالت یا عدالتی اصلاحات سے متعلق وسیع تر بحث پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئینی سوالات اپیل اسلام آباد ہائیکورٹ انٹرا کورٹ ججز ٹرانسفر کیس سپریم کورٹ عدالتی اصلاحات وفاقی آئینی عدالت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آئینی سوالات اپیل اسلام ا باد ہائیکورٹ انٹرا کورٹ ججز ٹرانسفر کیس سپریم کورٹ عدالتی اصلاحات وفاقی ا ئینی عدالت اسلام آباد ہائیکورٹ انٹرا کورٹ اپیل ہائیکورٹ کے سپریم کورٹ کی جانب سے ججز کی
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔