ججز ٹرانسفر کیس: آئینی عدالت اسلام آباد ہائیکورٹ کے 5 ججز کی انٹراکورٹ اپیل پر سماعت کل کریگی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
اسلام آباد(خصوصی رپورٹر)اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز نے ‘ججز ٹرانسفر کیس کے سلسلے میں انٹرا کورٹ اپیل کی وفاقی عدالت میں سماعت کو چیلنج کردیا۔ 5 ججز کی درخواست میں انٹرا کورٹ اپیل کو سپریم کورٹ واپس بھجوانے کی استدعا کی گئی ہے ۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اپیل کو 27 ویں آئینی ترمیم کی وجہ سے آئینی عدالت منتقل کردیا گیا ہے ۔ 27 ویں آئینی ترمیم آئین کے بر خلاف ہے ۔درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ مقننہ ایگزیکٹو اور عدلیہ دونوں 1973ء کے آئین کے تحت قائم کی گئیں۔ یہ آئین کے تحت 3 ستون ہیں۔ آئین میں اختیارات کی تقسیم اور حدود واضح ہیں۔ آئین میں ترمیم کا اختیار عدلیہ کو ختم کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے اختیارات کی تقسیم پر واضح ہیں۔دوسری جانب وفاقی آئینی عدالت نے 5 ججز کی انٹرا کورٹ اپیل سماعت کے لیے مقرر کرتے ہوئے کازلسٹ جاری کردی ہے ، جس کے مطابق جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 6 رکنی بینچ انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت کرے گا۔جسٹس امین الدین کی سربراہی میں لارجر بینچ 24 نومبر کو ساڑھے 11 بجے کیس کی سماعت کرے گا۔ بینچ میں جسٹس حسن رضوی، جسٹس باقر نجفی، جسٹس کے کے آغا، جسٹس روزی خان، جسٹس ارشد حسین شاہ شامل ہیں۔سپریم کورٹ کے 5رکنی بنچ نے اسلام آباد میں ججز کا تبادلہ درست قرار دیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: انٹرا کورٹ اپیل کورٹ کے
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔