کینیڈا، امریکا میں بھارتی مبینہ مداخلت سے متعلق نئے انکشافات
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
واشنگٹن (ویب ڈیسک)کینیڈا اور امریکا میں بھارتی حکام کی مبینہ مداخلت کے متعلق نئے انکشافات سامنے آگئے۔ انٹرسیپٹڈ کمیونی کیشنز میں بھارتی حکومت کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آ گئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی ریاستی دہشت گردی اب بین الاقوامی سرحدوں کو پار کرچکی۔
بھارت میں انتہاپسند ہندوتوا سوچ نے ریاستی اداروں کو زہریلا کر دیا۔ مودی، امیت شاہ قیادت کے دور میں بھارت ایک غیرذمہ دار اور جارح ریاست میں تبدیل ہو چکا۔ بھارتی حکومت بیرون ملک مخالف آوازوں کو خاموش کرانے کیلئے خفیہ کارروائیوں میں ملوث پائی گئی۔
کینیڈا میں سکھ رہنما کے قتل اور امریکا میں ناکام حملے کا الزام بھارتی ایجنسیوں پرعائد کردیا گیا۔ ماہرین کے مطابق یہ سفارت کاری نہیں سرحد پار دہشت گردی ہے۔ بھارتی کارروائیوں سے پاکستان کے مؤقف کی تصدیق اور بھارت کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہو گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: میں بھارت
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔