کراچی میں بھاری بھرکم ای چالان سے پریشان عوام کو کچھ ریلیف ملنے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر جاری ہونے والے ای چالان حالیہ دنوں غیر معمولی طور پر شہریوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ شہریوں کے مسلسل مطالبے کے بعد پولیس حکام اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں اور آئندہ دنوں میں اہم فیصلہ متوقع ہے۔
ایک اعلیٰ پولیس افسر نے بتایا کہ سندھ میں مختلف خلاف ورزیوں کے ای چالان جرمانوں میں کمی کی تجویز زیرِ بحث ہے، اور اس حوالے سے سندھ حکومت سے مشاورت بھی جاری ہے۔ امکان ہے کہ بعض جرمانوں کی رقم میں آئندہ ہفتے کمی کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔
افسر کے مطابق یہ کوئی مستقل رعایت نہیں ہوگی، بلکہ مخصوص مدت کے لیے چند خلاف ورزیوں پر جرمانوں میں نرمی جبکہ انتہائی خطرناک خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائی مزید سخت کی جا سکتی ہے۔
پولیس حکام اگلے ہفتے سے اس سلسلے میں شہریوں کے لیے ایک جامع آگاہی مہم شروع کرنے کی تیاری بھی کر رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔