کراچی میں بھاری بھرکم ای چالان سے پریشان عوام کو کچھ ریلیف ملنے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر جاری ہونے والے ای چالان حالیہ دنوں غیر معمولی طور پر شہریوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ شہریوں کے مسلسل مطالبے کے بعد پولیس حکام اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں اور آئندہ دنوں میں اہم فیصلہ متوقع ہے۔
ایک اعلیٰ پولیس افسر نے بتایا کہ سندھ میں مختلف خلاف ورزیوں کے ای چالان جرمانوں میں کمی کی تجویز زیرِ بحث ہے، اور اس حوالے سے سندھ حکومت سے مشاورت بھی جاری ہے۔ امکان ہے کہ بعض جرمانوں کی رقم میں آئندہ ہفتے کمی کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔
افسر کے مطابق یہ کوئی مستقل رعایت نہیں ہوگی، بلکہ مخصوص مدت کے لیے چند خلاف ورزیوں پر جرمانوں میں نرمی جبکہ انتہائی خطرناک خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائی مزید سخت کی جا سکتی ہے۔
پولیس حکام اگلے ہفتے سے اس سلسلے میں شہریوں کے لیے ایک جامع آگاہی مہم شروع کرنے کی تیاری بھی کر رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔