ڈی آئی جی کی ای چالان کے جرمانوں میں کمی کی مخالفت، نمبر پلیٹ چھپانے پر ایف آئی آر کا عندیہ
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
ای چالان کے بعد ٹریفک حادثات کم ہوئے اور اب 2 واقعات ہورہے ہیں، جرمانوں سے شہر کا نقشہ دو سال میں تبدیل ہوسکتا ہے
ہیوی گاڑیوں میں ٹریکر لگانا اب قانونا لازمی ہوگیا ہے اور خلاف ورزی پر ایک لاکھ روپے جرمانہ ہے،پیر محمد شاہ کا تقریب سے خطاب
کراچی ٹریفک کے ڈپٹی انسپکٹرجنرل آف پولیس (ڈی آئی جی) پیر محمد شاہ نے عندیہ دیا ہے کہ چالان سے بچنے کیلیے نمبر پلیٹ چھپانے والے شہریوں کیخلاف ایف آئی آر درج ہوگی جبکہ انہوں نے چالان کی قیمت میں کمی کو زیادتی بھی قرار دے دیا۔کراچی چیمبر آف کامرس میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ نے کہا کہ کراچی ٹریفک مینجمنٹ کمپنی کے ذریعے ٹرانسپورٹ کی انجینئرنگ کریں گے، اس کمپنی کا چیف ایگزیکٹو ٹریفک مینیجمینٹ میں پی ایچ ڈی یا ماسٹرز ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ چالان کی رقم کمپنی جمع کرے گی تو دو سال کے اندر شہر کا نقشہ تبدیل ہوجائے گا۔انہوں نے کہا کہ ای چالان سے ٹریفک حادثات 96 سے کم ہوکر 46 ہوگئے ۔ ہیوی گاڑیوں میں ٹریکر لگانا اب قانونا لازمی ہوگیا ہے اور خلاف ورزی پر ایک لاکھ روپے جرمانہ ہے۔ پیر محمد شاہ نے کہا کہ ٹریفک انجینئرنگ مردہ گھوڑا ہے اسے زندہ نہ کریں۔ڈی آئی جی ٹریفک، کمشنر اور میٔر کراچی نے کے ٹی ایم سی کی تجویز دی ہے جو کسی بھی وقت فعال ہوسکتی ہے، اسمارٹ سگنل کی لاگت 75لاکھ روپے ہوگی، شہر میں 400 اسمارٹ سگنلز کی ضرورت ہے جس کی مجموعی لاگت تقریبا 30ارب روپے کے قریب بنتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈمپروں کی فٹنس اور ٹریکنگ کے حوالے سے اقدامات کیے جارہے ہیں، جب تک ڈمپرز اور ہیوی وہیکلز میں ٹریکرز نصب نہیں ہونگے انہیں اجازت نہیں دی جائے گی۔ڈی آئی جی کا کہنا تھا کہ موسم سرما میں ڈمپرز کے ٹائر اور بریکنگ سسٹم ربڑ ہونے کی وجہ سے حادثات بڑھ جاتے ہیں، ڈمپروں کی فٹنس اورلائسنس ترجیحی بنیادوں پر چیک کیے جائیں گے۔انہوں نے بتایا کہ محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ میں بھی جدت لائی جارہی ہے جو کراچی میں چار مقامات پر کمرشل وہیکلز کے فٹنس سینٹرز قائم کریگا۔ ڈی آئی جی ٹریفک نے بتایا کہ ای چالان کے بعد روزانہ اوسطاً 2 حادثاتی اموات ہورہی ہیں، گزشتہ ماہ ٹریفک کے باعث محض 46 اموات ہوئیں۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں جرمانوں کو قوتِ برداشت کی بناء پر تعین نہیں کیا جاتا۔ پہلی مرتبہ ارتکاب پر سرکار نے جرمانہ معاف کیا ہے۔ 11 سہولت سینٹرز میں جاکر ڈیجیٹل طریقہ کار سے پہلا جرمانہ معاف کروایا جاسکتا ہے۔پیر محمد شاہ نے کہا کہ جرمانوں میں کمی کرنا قانون پر عمل کرنے والے شہریوں کے ساتھ زیادتی ہو گی۔انہوں نے کہا کہ شاہراہ فیصل موٹروے نہیں اسی لیے 60 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زائد رفتار کی اجازت نہیں دی جاسکتی، سسٹم کی کامیابی تبھی ممکن ہے کہ جب اس سسٹم کا خوف بیٹھتا ہے۔ اگر سسٹم کا خوف ہی نہیں ہوگا تو تبدیلی کیسے آئے گی؟انہوں نے عندیہ دیا کہ چالان سے بچنے کیلیے نمبر پلیٹس چھپانے پر ایف آئی آر ہونی ہیں۔ڈی آئی جی پیر محمد شاہ نے یہ بھی کہا کہ شاہراہ فیصل پر اتنے کیمرے لگ گئے ہیں کہ اب شہریوں کو پل صراط پر چلنا ہوگا۔ دسمبر سے شارع فیصل پر موٹر سائیکلوں کو بائیک لین پر چلانے کا قدم لیں گے۔قبل ازیں کراچی چیمبر آف کامرس کے صدر ریحان حنیف، بی ایم جی کے وائس چیٔرمین جاوید بلوانی اور چئیرمین لاء اینڈ آرڈر کمیٹی رانا محمد اکرم نے بھی خطاب کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: پیر محمد شاہ نے انہوں نے کہا کہ ڈی ا ئی جی
پڑھیں:
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔
اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔
اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔