کینیڈا کے دارالحکومت اوٹاوا میں خالصتان ریفرنڈم کی تیاریاں مکمل
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
کینیڈا کے دارالحکومت اوٹاوا میں خالصتان ریفرنڈم کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔
مزید پڑھیں: آزاد سکھ ریاست بناکر رام مندر کی جگہ بابری مسجد تعمیر کریں گے، گرپتونت سنگھ پنوں
ریفرنڈم میں شرکت کے لیے امریکا اور یورپ بھر سے ہزاروں سکھ کینیڈا پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔
“On November 23, the Khalistan referendum vote will take place in Ottawa.
Come and vote, Singho! This is the time.” https://t.co/PvgVCnx9iD pic.twitter.com/DJZmxIcYxG
— Bikramjit Singh (@SINGH1362777755) September 21, 2025
23 نومبر کی دوپہر کو شروع ہونے والی ووٹنگ میں سکھ، بھارت سے علیحدہ ہونے کے لیے اپنے ووٹ کا حق استعمال کریں گے۔
مزید پڑھیں: امریکا: خالصتان ریفرنڈم میں سکھوں کی بھرپور تاریخی شرکت
خالصتان ریفرنڈم کی تیاریوں میں مصروف سکھ رہنمائوں کا کہنا تھا کہ وہ بھارت سے جمہوری طریقے سے آزادی حاصل کریں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
خالصتان ریفرنڈم دارالحکومت اوٹاوا سکھ، بھارت کینیڈا
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: خالصتان ریفرنڈم دارالحکومت اوٹاوا سکھ بھارت کینیڈا خالصتان ریفرنڈم
پڑھیں:
گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
ایک بیان میں قائد نون لیگ کا کہنا تھا کہ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے گلگت سے سکردو کا 9 گھنٹے کا سفر 3 گھنٹے میں بدل کر عوام کے 6 گھنٹے بچائے ہیں۔ 70 سال سے لٹکے منصوبے ہم نے اربوں روپے لگا کر مکمل کیے۔ ہمیں یہ منظور نہیں کہ یہاں 20، 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو۔ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ ایک بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف اور مریم کو بھی کہوں گا کہ وہ دونوں یہاں آئیں اور اگر اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت آتی ہے، تو میں خود ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آکر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور نگرانی اپنی دیکھ بھال میں مکمل کرواؤں گا۔ یہاں دیس نکالے کی باتیں کرنے والے یاد رکھیں کہ 2017ء میں این ایف سی کمیٹی نواز شریف نے ہی بنائی تھی تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت، سکردو، بلتستان اور ہنزہ سمیت پورے خطے کے عوام سے مخاطب ہوں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور شہباز شریف سے بات کر کے اس شاہراہ کو پورا خنجراب تک پہنچائیں گے۔ پاک چائنا ٹریڈنگ کے اس منصوبے سے یہاں ایسی خوشحالی آئے گی کہ آپ کو گھر بیٹھے روزگار اور اخراجات ملیں گے اور پورا خطہ بدل جائے گا۔ آج گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، وہ گلگت کہاں ہے جسے میں جانتا تھا؟ ہم نے مانسہرہ سے تھاکوٹ تک بہترین سڑک بنائی جسے خنجراب تک جانا تھا مگر اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ ہم کسی کی برائی کرنے نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ یہاں کے عوام بے تحاشہ ترقی اور روزگار کے حقدار ہیں۔