پاکستان تحریکِ انصاف کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات وقاص اکرم نے سوشل میڈیا پر پارٹی کے حوالے سے پھیلائی جانے والی غلط معلومات پر وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ 2019 کے آئین کے مطابق پارٹی کا آفیشل سوشل میڈیا، انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے ماتحت نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی میں حتمی فیصلہ عمران خان کا، چھوڑ کر جانے والے غیر متعلقہ ہیں: شیخ وقاص اکرم

انہوں نے بتایا کہ پارٹی کے والنٹئیرز اپنی مصروف زندگی سے وقت نکال کر سوشل میڈیا پر عمران خان کی تحریک کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی پریس کانفرنس میں یہ جملہ کہ ’انفارمیشن کا پی ٹی آفیشل سے کوئی تعلق نہیں‘ ادا نہیں کیا۔

 

وقاص اکرم نے واضح کیا کہ کچھ افراد نے ان کے الفاظ کو توڑ مروڑ کر پیش کر کے غلط مفہوم دینے کی کوشش کی ہے، جو کامیاب نہیں ہو سکتی۔

وقاص اکرم نے مزید کہا کہ پارٹی کے تمام ونگز ایک چھتری تلے متحد ہیں، اور سب کا مقصد صرف عمران خان کی تحریک اور نظریے کو آگے بڑھانا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی آفیشل ہی پاکستان تحریک انصاف کے ہر ونگ کی آواز دنیا تک پہنچانے کا واحد ذریعہ ہے کیونکہ موجودہ دور میں پارٹی کی کسی بھی ایکٹیویٹی کو میڈیا کور نہیں کرتا۔

مرکزی سیکریٹری اطلاعات نے سوشل میڈیا پر رپورٹ کرنے والے صحافی حضرات سے درخواست کی کہ وہ پریس کانفرنس دیکھنے کے بعد حقائق پر مبنی ٹویٹس کریں اور ان کے الفاظ کو ہرگز توڑ مروڑ کر پیش نہ کریں۔

آخر میں وقاص اکرم نے کہا کہ اس قسم کی غلط بیانی کرنے والے تمام اکاؤنٹس اور نیوز چینلز کی وہ پرزور مذمت کرتے ہیں اور اس پروپیگنڈہ کو ناکام بنانے کے لیے پارٹی متحد ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پی ٹی آئی آفیشل پی ٹی آئی سوشل میڈیا شیخ وقاص اکرم عمران خان.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی ا فیشل پی ٹی ا ئی سوشل میڈیا شیخ وقاص اکرم وقاص اکرم نے سوشل میڈیا پی ٹی ا کہا کہ ا فیشل

پڑھیں:

نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا

سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔

سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔

اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
  • صرف 10 لاکھ روپے میں منی الیکٹرک کار، کیا یہ واقعی ممکن ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے