جموں و کشمیر ریزرویشن پالیسی پر آغا سید روح اللہ مہدی نے احتجاج کا اعلان کیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
ریزرویشن پالیسی پر جموں کشمیر کی بیشتر آبادی خاص کر نوجوان اور طلبہ نالاں ہیں اور اسے ناانصافی قرار دے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر میں ریزرویشن پالیسی پر بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر رہی ہے۔ نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمان آغا سید روح اللہ مہدی نے آئندہ ماہ اس پالیسی کے خلاف دوبارہ سڑکوں پر آکر احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ریزرویشن پالیسی پر جموں کشمیر کی بیشتر آبادی خاص کر نوجوان اور طلبہ نالاں ہیں اور اسے ناانصافی قرار دے رہے ہیں۔ آغا سید روح اللہ مہدی 20 دسمبر کو پارلیمنٹ اجلاس ختم ہوتے ہی طلبہ کے ساتھ احتجاج میں شامل ہوں گے۔ احتجاج کر رہے طلبہ 2022ء میں لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ کی جانب سے متعارف کی گئی "ریزرویشن پالیسی" کے از سر نو جائزے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ گزشتہ برس بھی 20 دسمبر کو سید روح اللہ مہدی نے گپکار میں عمر عبداللہ کی رہائشگاہ کے باہر سینکڑوں نوجوانوں کے ہمراہ ایسا ہی احتجاج کیا تھا۔
ریزرویشن کے خلاف پھر سے ناراضی کی نئی لہر اس وقت اٹھی جب سروس سلیکشن بورڈ (SSB) نے فائنانس ڈیپارٹمنٹ میں اکاؤنٹس اسسٹنٹ کی 600 اسامیوں کے لئے اشتہار سے کیا۔ ان چھ سو نشستوں میں سے صرف 240 نشستیں ہی اوپن میرٹ کے لئے ہیں جبکہ 360 نشستیں مختلف محفوظ زمروں کے لئے مختص کی گئی ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں آغا سید روح اللہ نے کہا کہ حکومت نے 2024ء میں وعدہ کیا تھا کہ چھ ماہ کے اندر ریزرویشن پالیسی کا جائزہ لیا جائے گا، مگر ایک سال گزرنے کے باوجود مسئلہ جوں کا توں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پالیسی کے تحت نوکریوں اور پیشہ ورانہ کالجوں میں 70 فیصد سے زیادہ سیٹیں ریزرو کیٹگریز کے لئے مختص ہیں، جس سے عام میرٹ والے امیدوار متاثر ہو رہے ہیں۔
گزشتہ برس کے احتجاج کے بعد عمر عبداللہ حکومت نے ایک کابینہ سب کمیٹی تشکیل دی تھی۔ ضمنی انتخابات سے قبل عمر عبداللہ نے کہا تھا کہ کمیٹی نے اپنی رپورٹ مکمل کرلی ہے اور وہ جلد ایل جی منوج سنہا کو منظوری کے لئے بھیجی جائے گی۔ اس کمیٹی میں وزیر تعلیم سکینہ ایتو، ٹرائبل افیئرس کے وزیر جاوید احمد رانا اور وزیر کھیل ستیش شرما شامل تھے۔ آغا سید روح اللہ نے وزیراعلیٰ کا نام لئے بغیر مشورہ دیا کہ طلبہ سے ملاقات کریں، بات چیت کریں، مسئلے کا عقلی حل نکالیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ معاملہ 20 دسمبر تک حل نہ ہوا تو میں دوبارہ ان کے ساتھ احتجاج میں بیٹھوں گا اور اس بار احتجاج ایک دن کا نہیں ہوگا۔ اسی دوران اینٹی ریزرویشن کارکن ساحل پرے نے کہا کہ میرٹ والے نوجوان مایوسی اور ذہنی دباؤ کا شکار ہو رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ریزرویشن پالیسی پر سید روح اللہ مہدی رہے ہیں نے کہا کے لئے
پڑھیں:
’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
پاکستان کے لیجنڈری گلوکار عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی نے اپنی زندگی سے متعلق ایک ایسا انکشاف کیا ہے جس نے مداحوں کو حیران کر دیا۔ معروف گلوکار کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے آبائی علاقے عیسیٰ خیل میں اپنی قبر پہلے ہی تیار کروا رکھی ہے اور وہ آخرت کی تیاری کو زندگی کا اہم ترین حصہ سمجھتے ہیں۔ ان کے اس بیان نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے جہاں صارفین اس پر مختلف آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔
عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی نے حال ہی میں صحافی ارشاد بھٹی کے پوڈکاسٹ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی، موسیقی اور ذاتی خیالات پر کھل کر گفتگو کی۔ اس دوران انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنی قبر پہلے ہی تیار کروا رکھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں نے آخرت کی تیاری کر لی ہے۔ میری قبر عیسیٰ خیل میں تیار ہے، مکمل بن چکی ہے۔ اگر آپ میری زندگی میں آئیں گے تو میں آپ کو دکھا دوں گا ورنہ بعد میں خود ہی دیکھ لیں گے۔ ہمارا اپنا خاندانی قبرستان بھی ہے، جہاں میں نے اپنے لیے ایک قبر مخصوص کر رکھی ہے۔ اس کے ساتھ چند جگہیں اور بھی ہیں جن میں سے ایک کے بارے میں میں نے مذاق میں کہا تھا کہ وہ میری اہلیہ کے لیے ہے لیکن ساتھ ہی کہا کہ مذاق کر رہا ہوں حقیقت میں صرف اپنی قبر محفوظ کروائی ہے۔ اللہ ہم سب پر رحم فرمائے۔
گلوکار نے قبر کے بارے میں بتایا کہ یہ خیال اس وقت آیا جب میں نے ایک فارم ہاؤس اور مسجد تعمیر کروائی۔ پھر سوچا کہ میرے لیے بھی ایک جگہ ہونی چاہیے۔ میں اپنے کئی قریبی دوستوں، عزیزوں، خاندان کے افراد اور اپنی والدہ کو کھو چکا ہوں، اسی لیے موت کا خیال ہمیشہ ذہن میں رہتا ہے۔ میری صرف یہی دعا ہے کہ اللہ مجھے پُرسکون موت عطا فرمائے۔
یہ بھی پڑھیں: عطااللہ عیسیٰ خیلوی کس کے لکھے گانے گا کر مشہور ہوئے؟
عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف آراء سامنے آنے لگیں۔ ایک صارف نے لکھا قبر پہلے سے بنوانا درست نہیں البتہ کفن کی تیاری کی جا سکتی ہے۔
ایک اور نے تبصرہ کیا صرف قبر تیار کر لینا کافی نہیں، اصل تیاری آخرت کی ہونی چاہیے۔ ایک صارف نے لکھا کہ ان کا ایمان مضبوط ہے، ہم تو قبر کا ذکر کرنے سے بھی گھبراتے ہیں جبکہ ایک اور صارف کا کہنا تھا قبر بنانے کے بجائے اگر اولڈ ایج ہوم بنا دیتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
عطااللہ عیسیٰ خیلوی عیسیٰ خیلوی عیسیٰ خیلوی قبر قبر گلوکار ویڈیو وائرل