دنیا بھر میں انٹرنیٹ کا بریک ڈائون‘ متعدد ویب سائٹس بند‘ صارفین کو مشکلات
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) عالمی سطح پر اچانک متعدد ویب سائٹس بند ہوجانے سے صارفن کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس کی وجہ انٹرنیٹ کلاؤڈ فلیئر کی خرابی بتائی جا رہی ہے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق منگل کی دوپہر سے عام استعمال کی ویب سائٹس بھی سست روی کے بعد اچانک سے بند ہونا شروع ہوگئیں۔متعدد صارفین کو ویب سائٹس کھولنے پر ایرر 500 کا سامنا ہے جبکہ کلاؤڈ فلیئر ڈیش بورڈ اور اے پی آئی بھی کام نہیں کر رہی ہیں۔ویب سائٹس انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ دراصل کلاؤڈ فلیئر کی جانب سے فراہم کردہ سروسز میں خرابی کے باعث پیدا ہوا ہے۔ کلاؤڈ فلیئر کی خرابی کے باعث ہی دنیا بھر میں کئی ویب سروسز اور پلیٹ فارمز متاثر ہوئے ہیں۔ دوسری جانب کلاؤڈ فلیئر کمپنی نے بتایا کہ اس مسئلے سے آگاہ ہیں اور تحقیقات جاری ہیں۔ جلد ہی بحالی کا کام مکمل ہوجائے گا۔ صارفین سے معذرت خواہ ہیں۔ واضح رہے کہ کیلیفورنیا میں قائم یہ کمپنی ویب سائٹس، ویب ایپلی کیشنز اور نیٹ ورکس کی سیکورٹی، کارکردگی اور قابلِ بھروسہ آپریشنز کے لیے خدمات فراہم کرتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ویب سائٹس
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔