26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم، منحرف سینیٹرز کو قتل کی دھمکیوں کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
26ویں اور 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے اپنی پارٹی سے انحراف کر کہ ترمیم کے حق میں ووٹ دینے والے سینیٹرز کو جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں، سینیٹر سیف ابڑو، اسلم ابڑو اور نسیمہ احسان نے سینیٹ کی داخلہ کمیٹی کو آگاہ کیا کہ انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں مگر سیکیورٹی فراہم نہیں کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ملک میں عدالتی نظام انصاف پر مبنی نہیں، 27ویں ترمیم کو مسترد کرتے ہیں، حافظ نعیم الرحمان
چیئرمین کمیٹی نے حکم دیا کہ جب تک صوبائی تھریٹ اسسمنٹ کمیٹیاں معاملے کی تحقیقات مکمل نہیں کر لیتی، آئی جی اسلام آباد، آئی جی سندھ اور آئی جی بلوچستان تینوں سینیٹرز کو فوراً سیکیورٹی فراہم کریں۔
واضح رہے کہ سینیٹر سیف اللہ ابڑو پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر ہیں اور انہوں نے پارٹی پالیسی سے انحراف کر کہ 27ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دیا تھا، جبکہچ کا تعلق اختر مینگل کی بلوچستان نیشنل پارٹی سے تھا اور انہوں نے 26ویں آئینی ترمیم کے وقت پارٹی پالیسی سے انحراف کر کہ آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دیا تھا، 27ویں ترمیم میں بھی انہوں نے ووٹ دیا ہے، جبکہ سینیٹر اسلم ابڑو پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیٹر ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:27ویں آئینی ترمیم پر شدید تحفظات، جے یو آئی (ف) کا حکومتی اقدامات سے اظہارِ لاتعلقی
سینیٹر شہادت اعوان کی زیر صدارت داخلہ کمیٹی کے اجلاس میں پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا، جس میں ڈی جی ایف آئی اے (این سی سی آئی اے) نے کمیٹی کو بتایا کہ سینیٹر فلک ناز چترالی کے نام پر کیے گئے فراڈ کیس میں ملوث افراد گرفتار کر لیے گئے ہیں۔
انہوں نے زیر التوا اور نمٹائے گئے کیسز کے اعدادوشمار بھی پیش کیے، مگر زیر التواء مقدمات میں بڑے اضافے پر کمیٹی نے سخت تشویش کا اظہار کیا۔
سینیٹر پلوشہ محمد زئی خان نے بتایا کہ ایف آئی اے اور این سی سی آئی اے کے باعث عوام مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ایک ساتھی سے ’مہدی شاہ‘ کے نام پر رقم مانگی گئی، جب کہ یوٹیوبر کے بھائی کی اہلیہ سے 10 کروڑ روپے کا مطالبہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عام شہریوں کا استحصال کس قدر بڑھ چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:27ویں آئینی ترمیم کیخلاف وکلا کنونشن بار قیادت کے اختلافات کا شکار ہونے کے بعد سڑک پر منعقد
سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے ایف آئی اے کے ایک افسر کی ایک سال میں اربوں روپے کی جائیدادیں بنانے کی نشاندہی کرتے ہوئے افسران کی دیانت داری پر سوال اٹھایا۔ ارکان نے ذمہ داران کی نشاندہی کے لیے ذیلی کمیٹی بنانے کی تجویز دی، تاہم چیئرمین نے فوری طور پر ذیلی کمیٹی قائم کرنے کی ضرورت سے اتفاق نہ کرتے ہوئے ہدایت کی کہ تحقیقات مکمل کرکے جلد از جلد کمیٹی کو رپورٹ پیش کی جائے۔
ایڈیشنل آئی جی سندھ اور آئی جی بلوچستان کے نمائندوں نے سینیٹر محمد اسلم ابڑو کے بھائی اور بھتیجے کے قتل کیس پر تعمیلی رپورٹ پیش کی اور بتایا کہ ملزمان کا پیچھا کرنے کے لیے پولیس ٹیمیں کوئٹہ میں موجود ہیں، جب کہ ملزمان کی جائیداد ضبط کرنے کا عمل جاری ہے، جبکہ شناختی کارڈز بلاک اور بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے گئے ہیں۔
اس سلسلے میں 2 مشتبہ افراد کے کال ڈیٹا ریکارڈ حاصل ہو چکے ہیں۔ چیئرمین کمیٹی نے ڈی آئی جی سندھ کو 20 روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
senate اسلم ابڑو سیف اللہ ابڑو سینیٹ سینیٹر سینیٹر نسیمہ ابڑو.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلم ابڑو سیف اللہ ابڑو سینیٹ سینیٹر سینیٹر نسیمہ ابڑو 27ویں آئینی ترمیم اسلم ابڑو ترمیم کے انہوں نے آئی اے کے لیے
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔