بھارت : نئے لیبر قوانین واپس نہ لینے پر ملک گیر احتجاج کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت کی 10 بڑی مزدور یونینوں نے حکومت کی طرف سے جمعہ کے روز اعلان کردہ لیبر قوانین پر سخت احتجاج کیا گیا ہے اور کہا ہے کہ کئی دہائیوں کے بعد حکومت نے مزدور یونینوں کے خلاف بہت دھوکا اور فراڈ کیا ہے۔ جو درحقیقت بھارت کے عام مزدور کے خلاف ہے۔ مزدور یونینوں نے اس حکومتی فیصلے کے خلاف جاری کردہ اپنے بیان میں نریندر مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان ظالمانہ قوانین کو واپس لے ورنہ بدھ کے روز پورے ملک میں مزدور سڑکوں پر ہوں گے۔ مودی حکومت نے چار ایسے قوانین کو نافذ کیا ہے جن کی پارلیمان سے منظوری 5سال پہلے لی گئی تھی۔ مودی حکومت کی طرف سے ان قوانین کو نافذ کرنے کا مقصد یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ مزدوروں کے لیے قوانین کو سادہ بنانا چاہتی ہے۔کیونکہ پہلے والے لی ر قوانین میں سے بہت سے قوانین برطانوی دور سے چلے آرہے ہیں۔ حکومتی مؤقف کے مطابق ان قوانین کے نفاذ سے بھارت میں سرمایہ کاری بڑھنے کا امکان ہوگا۔ جس سے مزدوروں کے لیے بھی روزگار کے مواقع بڑھیں گے اور انہیں تحفظ ملے گا۔ تاہم ان نئے قوانین میں سوشل سیکیورٹی قوانین شامل کیے جانے کے ساتھ مزدوروں کی کم سے کم تنخواہوں کا تعین کرنے کے علاوہ متعلقہ کمپنیوں کو بآسانی مزدوروں کو نوکری سے نکالنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں مزدوروں کی یونینیں پچھلے پانچ سال سے مسلسل آواز اٹھا رہی ہیں اور بارہا اپنے اپنے اداروں میں احتجاج کر چکی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: قوانین کو
پڑھیں:
شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے وکالت شروع کرنے کا اعلان کر دیا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ 50 سال بعد زندگی گزارنے کے بعد راولپنڈی بار نے میری ممبر شپ بحال کر دی. 50 سال بعد بار کا تاحیات ممبر بن گیا ہوں۔انہوں نے کہا کہ میری کوشش ہو گی کہ سچائی، قانون اور ملک کی بہتری کے لئے کام کروں. غریب آدمی کے لئے قانونی، عملی اور عملی خدمت کروں گا۔
واضح رہے شیخ رشید نے سردار رزاق چیمبر کے ذریعے ڈسٹرکٹ بار روالپنؔڈی میں اپنی رکنیت بحالی کی درخواست دائر کر دی تھی۔