وزارتِ ہاوسنگ نے سرکاری مکانات کی الاٹمنٹ سے متعلق قواعد میں اہم ترمیم کی منظوری دیدی
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
وزارتِ ہاوسنگ نے سرکاری مکانات کی الاٹمنٹ سے متعلق قواعد میں اہم ترمیم کی منظوری دیدی WhatsAppFacebookTwitter 0 25 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)سرکاری رہائش گاہوں کے منتظر وفاقی ملازمین کے لیے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، وزارتِ ہاوسنگ و تعمیرات نے سرکاری مکانات کی الاٹمنٹ سے متعلق قواعد میں اہم ترمیم کی منظوری دیدی ہے۔
وزارت کی جانب سے ڈی جی اسٹیٹ آفس کو بھجوائے گئے مراسلے میں بتایا گیا ہے کہ اکاوموڈیشن ایلوکیشن رولز 2002 میں ترمیم کر دی گئی ہے، جس کے بعد ایک شہر سے دوسرے شہر تبادلہ ہونے والے وفاقی ملازمین کا فوری طور پر مکان تبدیل کروانے کا استحقاق ختم کر دیا گیا ہے۔نئے قواعد کے تحت اب کسی بھی شہر سے ٹرانسفر ہونے والے ملازم کو جنرل ویٹنگ لسٹ میں باقاعدہ رجسٹریشن کروانا ہوگی اور پھر اپنی باری کا انتظار کرنا پڑے گا۔
اس سے قبل کئی ملازمین تبادلے کے نام پر فوری طور پر مکان الاٹ کرا لیتے تھے، جس کا نقصان ان ملازمین کو ہوتا تھا جو طویل عرصے سے جنرل ویٹنگ لسٹ میں اپنی باری کے منتظر ہوتے تھے۔ نئی ترمیم کے بعد یہ طویل عرصے سے موجود ناانصافی ختم ہونے کی توقع ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروزیراعظم سے سیکریٹری ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کی ملاقات، علاقائی اور عالمی پیش رفت پر گفتگو وزیراعظم سے سیکریٹری ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کی ملاقات، علاقائی اور عالمی پیش رفت پر گفتگو پنجاب حکومت نے افسران کی ترقیوں کے بعد تقرر و تبادلے کے احکامات جاری کر دیئے اسلام آباد یونائیٹڈ نے 10سال کیلئے فرنچائز معاہدے کی تجدید کر دی ہم جب حملہ کرتے ہیں تو اعلانیہ کرتے ہیں چھپ کر نہیں، پاک فوج، افغان طالبان کا الزام مسترد اگر یہی سلسلہ رہا تو ہم کسی اور لائن کی طرف جانے کا سوچیں گے، چیئرمین پی ٹی آئی افغانستان میں فضائی حملوں سے ہلاکتیں،طالبان نے پاکستان پر الزام عائد کردیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف
فائل فوٹوپبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف ہوا ہے۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق حیسکو کے ڈی ڈی او، ایکسیئن اور سی ایف او آفس کی ملی بھگت سے خرد برد کی گئی۔
سی ای او حیسکو کے مطابق اس کیس میں چار ملازمین کو برطرف کیا جا چکا ہے۔ تین اکاؤنٹس افسران، ایک فنانس افسر کو نوکری سے نکالا گیا۔
ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس کے 5 مقدمات درج کیے گئے، 130 سے زائد افراد ملوث تھے، اب تک صرف 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔