جاپانی عسکریت پسندی کو دوبارہ سر اٹھانے کی اجازت نہیں دینگے، چین
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ چین جاپان کو دوبارہ اپنی فوجی طاقت میں اضافہ کرنے اور اسے دوسروں کیخلاف جارحیت کیلئے بروئے کار لانے کی اجازت نہیں دیگا اور نہ ہی چین کسی کو دوسری جنگ عظیم کے بعد کے بین الاقوامی نظام کو چیلنج کرنے اور عالمی امن و استحکام کو دوبارہ کبھی نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دیگا۔ اسلام ٹائمز۔ چین نے کہا ہے کہ وہ کبھی بھی جاپانی عسکریت پسندی کو دوبارہ سر اٹھانے کی اجازت نہیں دے گا۔ عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ماؤ ننگ نے کہا کہ چین جاپان کو دوبارہ اپنی فوجی طاقت میں اضافہ کرنے اور اسے دوسروں کے خلاف جارحیت کے لئے بروئے کار لانے کی اجازت نہیں دے گا اور نہ ہی چین کسی کو دوسری جنگ عظیم کے بعد کے بین الاقوامی نظام کو چیلنج کرنے اور عالمی امن و استحکام کو دوبارہ کبھی نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دے گا۔
میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چینی ترجمان کا یہ بیان کئی جاپانی عہدیداروں کے اس عندیہ کے بعد سامنے آیا ہے کہ جاپان اپنی سیلف ڈیفنس فورسز کی صفوں میں ردوبدل کرنے اور اس وقت کے امپیریل جاپانی آرمی رینک ٹائٹلز کو استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ چینی ترجمان نے مزید کہا کہ جاپانی عسکریت پسندی کی جارحیت نے ایشیاء اور دنیا کو گہرے مصائب سے دوچار کیا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ جنگ کے نتائج کو بھول جاتے ہیں، وہ خود کو سنگین خطرے میں ڈالیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کی اجازت نہیں کو دوبارہ کرنے اور کہا کہ
پڑھیں:
کشمیر کا وہ گاوٴں جس کے باسی فون چارج کرنے کے لیے 45 کلومیٹر دور جاتے ہیں
لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے نہایت قریب انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں خوبصورت ہمالیائی پہاڑی سلسلے کے درمیان واقع ون دجی گاؤں کی 19 سالہ کلثومہ کے لیے جدید زمانہ صرف ایک محاورہ ہی ہے، کیونکہ ان کی زندگی قدیم انسانوں جیسی ہی ہے۔ون دجی گاؤں کی پانچ نسلوں نے آج تک بجلی کی روشنی نہیں دیکھی ہے اور نئی نسل بھی باورچی خانے میں چولہے کی آگ اور روشنی کے لیے مشعل کے دھویں میں پروان چڑھ رہی ہے۔اس گاؤں کو صدیوں سے بجلی کا انتظار ہے کیونکہ اسے ابھی تک بجلی کے گرڈ کے ساتھ نہیں جوڑا گیا ہے۔
ہم جدید دور کے قدیم انسان ہیں
ون دجی کی طرف جانے والے صرف راستے ہی دشوار نہیں ہیں، یہاں کی زندگی بھی مشکلات کے بیچ گھِری ہوئی ہے۔ دن بھر مشقت کے بعد جب شام ہوتی ہے، تو یہاں کے لوگ ایک نئی جدوجہد شروع کرتے ہیں۔کلثومہ کہتی ہیں کہ ’یہاں خواتین زیادہ پریشان ہیں، کیونکہ دن میں چولہے کا دھواں ہوتا ہے اور رات میں پڑھائی کے وقت مشعل کا دھواں انھیں بیمار کر دیتا ہے۔وہ کہتی ہیں کہ گاؤں سے باہر جاتے ہی انہیں احساس ہوتا ہے کہ وہ انسانی تہذیب کا حصہ نہیں ہیں۔جب ہم کپواڑہ مارکیٹ میں جاتے ہیں تو لوگوں کو سمارٹ فون پر مصروف پا کر ہمیں کمتری کا احساس ہوتا ہے، کسی رشتہ دار کے یہاں جاتے ہیں تو وہاں ہیٹر، بوائلر، گیزر وغیرہ دیکھ کر ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے لیے وقت اُدھر ہی رُک گیا جب انسان آگ سے ہی کھانا پکاتا تھا اور آگ سے ہی رات میں روشنی کرتا تھا۔
’ہم جدید دور کے قدیم انسان ہیں۔‘