اقوام متحدہ ہو یا آسیان مودی مُنہ چھپا رہا، سات، صفر کی شکست یاد دلائی جاتی رہے گی: بلاول
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
اسلام آباد،مظفرآباد،لاہور(نمائندہ خصوصی+ نوائے وقت رپورٹ+ نیوز رپورٹر) چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ بھارت سے جنگ کے بعد پاکستان کا سٹینڈرڈ سب کے سامنے ہے اور مودی دنیا سے منہ چھپا رہا ہے۔ مظفر آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ امریکا اور دیگر ممالک انہیں یاد دلائیں گے کہ 7 جہازگرے تھے۔ اقوام متحدہ ہو یا آسیان، دنیا کا کوئی بھی فورم ہو بھارت وہاں سے بھاگ رہا ہے۔ پیپلزپارٹی کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈال کر عمران کو اقتدار دیاگیا تھا۔ میں خود انتخابات میں آپ کے پاس آیا تھا۔ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان نے مایوس نہیں کیا۔ جتنا سیاسی شعور کشمیر میں ہے اتنا کہیں نہیں ہے۔ بھارت پاکستان اور کشمیر کے بھائی چارے کونقصان پہنچاتا ہے۔ مودی سرکار کو بتانا چاہتا ہوں کہ آپ جنگیں بھی ہارے اور اب سازش بھی ہارو گے۔ جب آپ کا نمائندہ آپ کی نمائندگی نہیں کرسکتا تو عوام کو خود جدوجہدکرنا پڑتی ہے۔ کشمیرکے عوام جب سراپا احتجاج تھے تو فیصل راٹھور اس کو بھی دیکھ رہے تھے۔ اب مظفرآباد میں آپ کا نمائندہ فیصل راٹھور ہے۔ فیصل راٹھور نے عوام سے جو وعدے کیے وہ میرے پاس آپ کی امانت ہیں۔ ہم بند کمروں میں بیٹھ کر آزاد کشمیر کی حکومت نہیں چلائیں گے۔ علاوہ ازیں چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو سے گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے ملاقات کی۔ ملاقات میں پنجاب کی سیاسی صورتحال سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بلاول بھٹو نے گورنر پنجاب کی صوبے کے عوام کیلئے جاری خدمات کو سراہا۔ گورنر نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو پنجاب میں نئے جذبے اور ولولے سے متحرک کر دیا ہے۔ قبل ازیںگورنر نے لارنس کالج گھوڑا گلی مری کے بورڈ آف گورنرز کے اجلاس کی صدارت بھی کی۔ پرنسپل نے ان کو ادارے کی کارکردگی کے حوالے سے بریفنگ دی۔ سردار سلیم حیدر خان نے کہا کہ بحیثیت گورنر ادارے کی ترقی کیلئے جو بھی ضرورت ہو پوری کروں گا۔ جامعات میں گڈ گورننس کے حوالے سے کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بلاول بھٹو نے کہا
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔