اسلام آباد میں جاری بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس کا اختتام ہو گیا، کانفرنس کا اعلامیہ متفقہ طور پر منظور کیا گیا۔ چیئرمین سینیٹ و بانی چیئرمین آئی ایس سی سید یوسف رضا گیلانی نے دہشت گردی کو بڑا چیلنج قرار دیا۔

چیئرمین سینیٹ کا خطاب

بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ دہشتگردی دنیا کے لیے ایک سنگین خطرہ برقرار ہے اور اس کے خاتمے کے لیے نہ صرف سیکیورٹی اقدامات بلکہ پارلیمانی تعاون، مالی نگرانی اور اجتماعی سیاسی عزم کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اسلام آباد اور وانامیں حالیہ دہشت گردانہ حملوں کی مذمت کی۔

مشترکہ حکمت عملی اور قربانیاں

چیئرمین سینیٹ نے مشترکہ حکمت عملی، باہمی تعاون اور ہم آہنگ عالمی تعاون کی ضرورت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی عظیم قربانیاں نمایاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، وہ انسانیت کے دشمن ہیں۔ سید یوسف رضا گیلانی نے عالمی امن، استحکام اور مکالمے کے لیے پاکستان کے عزم کی تجدید کی، جس میں پارلیمنٹس کے کردار کو مرکزی قرار دیا۔

موسمیاتی تبدیلی اور عالمی چیلنجز

چیئرمین سینیٹ نے موسمیاتی تبدیلی کے عالمی چیلنج کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی انسانی بقا کے لیے ایک حقیقی خطرہ ہے۔

انہوں نے دہشتگردی، شدت پسندی، موسمیاتی تبدیلی اور انسانی بحرانوں جیسے موجودہ عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے اجتماعی عالمی حکمت عملی کی اپیل کی اور پارلیمانوں کے کردار کو اہم قرار دیا۔

اسلام آباد اعلامیہ اور شرکا کا عزم

کانفرنس کے اختتامی سیشن میں چیئرمین سینیٹ نے اسلام آباد اعلامیہ پیش کیا، جسے متفقہ طور پر منظور کیا گیا۔ اعلامیہ میں دنیا بھر کے پارلیمانوں کے سپیکرز نے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کے تحت امن، سلامتی اور جامع ترقی کے تصورات سے اپنے غیر متزلزل وابستگی کا اعادہ کیا۔

پارلیمانی کردار اور تعاون

شرکا نے کہا کہ پارلیمان مکالمے، قانون سازی میں جدت، بین الاقوامی رابطہ کاری اور پارلیمانی سفارتی کاری کے ذریعے عالمی مسائل کے حل میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔

اعلامیے میں بین الپارلیمانی سپیکرز کانفرنس کے منڈیٹ اور پارلیمانی سفارتکاری کی توثیق کی گئی اور آئی ایس سی کو موثر پلیٹ فارم تسلیم کیا گیا تاکہ مشترکہ کمیٹیوں، پارلیمانی کاکسز، نوجوان پارلیمنٹرین فورمز اور ادارہ جاتی شراکت داری کے ذریعے تعاون مضبوط کیا جا سکے۔

پائیدار ترقی اور انسانی حقوق

اعلامیے میں یہ تسلیم کیا گیا کہ پائیدار ترقی دیرپا امن کے بغیر ممکن نہیں اور امن انصاف، مساوات اور جامع سماجی و اقتصادی ترقی کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا۔

پارلیمانوں کے کلیدی کردار کی توثیق کی گئی تاکہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری، انسانی حقوق کے فروغ اور اقوام کے جائز حق کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

اعتماد سازی اور علاقائی تعاون

مشترکہ اعلامیہ میں مصالحت، فعال پارلیمانی سفارتکاری، اعتماد سازی اور سیاسی و ثقافتی خلیجوں کو کم کرنے پر زور دیا گیا۔ شرکا نے غربت، موسمیاتی دباؤ اور علاقائی تنازعات کے تدارک کے لیے اتفاق رائے اور پائیدار ترقی پر مبنی تعاون کو فروغ دینے پر بھی زور دیا۔

ڈیجیٹل ترقی اور پارلیمانی صلاحیتیں

اعلامیے میں ڈیجیٹل خلیج کے خاتمے، عوامی خدمات میں جدت اور ای پارلیمنٹ پلیٹ فارمز کے استعمال کو فروغ دینے پر زور دیا گیا۔ شرکا نے پارلیمانوں کے اندر ادارہ جاتی صلاحیتوں میں اضافے اور قانون سازی کی نگرانی کو مضبوط بنانے پر بھی توجہ دی۔

عالمی چیلنجز اور اجتماعی تعاون

اعلامیے میں دہشتگردی، انتہا پسندی، موسمیاتی تبدیلی، خوراک و پانی کی قلت، غربت، وبائی امراض، سائبر سیکورٹی، نفرت انگیز تقاریر، زینو فوبیا اور اسلاموفوبیا جیسے عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اجتماعی تعاون اور مکالمے کی اہمیت کو تسلیم کیا گیا۔

اعلامیے کے اختتام پر اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ پارلیمانیں قائدانہ کردار ادا کرتی رہیں گی اور اقوام متحدہ کے چارٹر اور انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کے اصولوں سے رہنمائی حاصل کریں گی۔

شرکا نے امن، سلامتی اور پائیدار ترقی کے ذریعے ایک منصفانہ، جامع اور سب کے لیے خوشحال عالمی نظام قائم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسلامو فوفیا بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس خوارک دہشتگردی زینو فوبیا موسمیاتی تبدیلی وبائی امراض یوسف رضا گیلانی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس خوارک دہشتگردی زینو فوبیا موسمیاتی تبدیلی یوسف رضا گیلانی بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس موسمیاتی تبدیلی یوسف رضا گیلانی پارلیمانوں کے چیئرمین سینیٹ پائیدار ترقی اعلامیے میں اسلام آباد قرار دیا شرکا نے کیا گیا کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل