تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ اقوامِ متحدہ کی قرارداد 1701 کے باوجود اسرائیل نے مسلسل جنگ بندی توڑی ہے، لہٰذا لبنان کو حق حاصل ہے کہ اسرائیلی فوجی اور غیر فوجی اہداف کے خلاف کارروائی کرے۔ اسلام ٹائمز۔ مغربی ایشیا کے امور کے ایرانی ماہر سید رضا صدر الحسینی کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کے پاس اسرائیلی دہشت گردانہ حملوں کا جواب دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں، اور یہ جواب عسکری ہو گا، اس حوالے سے فقط سیکورٹی نوعیت کی کارروائی کا امکان کم ہے۔ بین الاقوامی خبر ایجنسی تسنیم سے گفتگو میں سید رضا صدر الحسینی نے ایک سال سے زیادہ عرصے قبل لبنان اور اسرائیلی رجیم کے درمیان طے پانیوالی جنگ بندی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ معتبر علاقائی اور بین الاقوامی شواہد کے مطابق اس مدت میں اسرائیل نے جنگ بندی کی ایک ہزار سے زائد خلاف ورزیاں کیں۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ سمیت وہ ممالک جو جنگ بندی کے ضامن تھے، انہوں نے نہ ان خلاف ورزیوں پر کوئی اقدام کیا، نہ لبنان کے رہائشی علاقوں پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کی، بلکہ ان کے سکوت نے صہیونی رجیم کی عملی حمایت کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی حملوں میں متعدد لبنانی شہری شہید ہوئے ہیں، لیکن اقوامِ متحدہ جیسے عالمی اداروں نے ان جرائم کے مقابلے میں کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا۔ اقوامِ متحدہ نے صرف جنگ بندی کی خلاف ورزی سے متعلق فقط ایک رپورٹ پیش کی۔ صدرالحسینی نے لبنان کی صورتحال کو افسوسناک قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ حالات صہیونی رجیم نے لبنان کی حکومت، عوام اور سرکاری و نجی اداروں پر مسلط کیے ہیں، اب اس کے سوا کوئی راستہ نہیں کہ خطے میں مقاومت صہیونی حکومت کے خلاف عملی اقدام کرے، حالیہ حملوں میں حزب اللہ کے اہم اور مؤثر افراد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جن میں حال ہی میں شہید ہونے والی شخصیت ہَیثَم علی طباطبائی (ابوعلی) بھی شامل ہیں، جو حزب اللہ کے اعلیٰ کمانڈرز میں سے تھے۔، صہیونی رجیم صرف طاقت کی زبان سمجھتی ہے، یہ رجیم طاقت کے سوا کوئی زبان نہیں سمجھتی، اس کے خلاف سخت، عسکری اور جوابی کارروائی ہی واحد راستہ ہے۔

ان کے مطابق بیروت کی حکومت بھی اب اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ وہ صہیونی فوجی حملوں کا مقابلہ کرنے کی اہلیت نہیں رکھتی، اس لیے لبنانی شہریوں کی حفاظت کا واحد طریقہ یہی ہے کہ حزب اللہ ان حملوں کا جواب دے اور جوابی کارروائیوں کا منصوبہ بنائے، حزب اللہ کی عسکری کارروائیاں قابلِ پیش گوئی ہیں، اقوامِ متحدہ کی قرارداد 1701 کے باوجود اسرائیل نے مسلسل جنگ بندی توڑی ہے، لہٰذا لبنان کو حق حاصل ہے کہ اسرائیلی فوجی اور غیر فوجی اہداف کے خلاف کارروائی کرے، لیکن بڑے سیکیورٹی آپریشن یا خفیہ کارروائی کا امکان کم دکھائی دیتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حزب اللہ کی ممکنہ کارروائیوں کی سطح اور نوعیت ایسی ہونی چاہیے کہ وہ مؤثر ثابت ہوں، لیکن لبنان میں یہ بھی بحث جاری رہے گی کہ غیر معمولی کارروائیوں کی صورت میں اسرائیل غیر متوقع اور شدید جرائم کا ارتکاب کر سکتا ہے، اس لیے جوابی کارروائی کا منصوبہ لبنانی عسکری و سیکیورٹی اداروں میں انتہائی محتاط طریقے سے زیرِ غور لایا جانا ضروری ہے، مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال میں نہ مقاومت، نہ اسرائیلی رجیم اور نہ ہی اس کے حامی، کسی کو بھی خطے میں بڑی جنگ بھڑکانے میں دلچسپی نہیں، امریکہ، جو یکطرفہ طور پر جنگ بندی کا ضامن ہے، بھی جنگ کو وسعت نہیں دینا چاہتا، کیونکہ جنگ ان کے مفادات کو نقصان پہنچائے گی، اور جنگ بندی کے ضامن ممالک کی سیاسی و قانونی ساکھ مزید متأثر ہوگی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: حزب اللہ کے حملوں کا کے خلاف کا کہنا

پڑھیں:

بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) رہنما جنید اکبر نے کہا ہے کہ جس دن بانی پی ٹی آئی محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے۔

راولپنڈی کے اڈیالہ روڈ پر میڈیا سے گفتگو میںپی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے صدر جنید اکبر نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں بجٹ پاس کرنا ہے یا نہیں فیصلہ پارٹی کرے گی۔

ہمیں پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان

بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان نے نے کہا کہ حکمراں اتنے خوفزدہ ہیں کہ بشریٰ بی بی کی فیملی کو بتایا ہوا ہے باہر جا کر بات نہیں کرنا۔

انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ بانی پی ٹی آئی نے نامزد کیا ہے، جب تک وہ ہیں ہر ایم پی اے ان کو ہی ووٹ دے گا، میں چیلنج کرتا ہوں کوئی ایک ایم پی اے کو توڑ کر دکھائے۔

جنید اکبر نے مزید کہا کہ ان کی کوئی حیثیت نہیں کہ کوئی فارورڈ بلاک بناسکے، کل 7 ناراض ایم پی ایز سے ملے ہیں، جن کی شکایات کو حل کریں گے۔

اُن کا کہنا تھا کہ محمود اچکزئی کو ذمے داری بانی پی ٹی آئی نے دی، اس پر نہ میں بول سکتا ہوں اور نہ ہی کوئی اور بات کرسکتا ہے، جس دن بانی پی ٹی آئی محمود اچکزئی سےمطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان