دبئی ایئر شو میں 202 ارب ڈالر سے زائد کے معاہدوں کا نیا ریکارڈ قائم
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
دبئی:
متحدہ عرب امارات میں دبئی ایئر شو 2025 نے 202 ارب ڈالر سے زائد کے معاہدوں کے ساتھ ایک نیا ریکارڈ قائم کیا جو کہ 2023 کے مقابلے میں دگنا ہے۔
اماراتی نیوز ایجنسی وام کے مطابق دبئی ائیر شو عالمی سطح پر منعقد ہونے والے سب سے بڑے ایوی ایشن ایونٹس میں سے ایک ہے جس میں 2 لاکھ 48 ہزار سے زائد ماہرین، ماہرینِ صنعت اور سیاحوں نے شرکت کی۔
ایونٹ میں 1500 سے زائد نمائش کنندگان نے حصہ لیا جن میں سے 440 نے پہلی بار شرکت کی جبکہ 115 ممالک کی 490 فوجی اور سول وفود نے بھی شرکت کی جو کہ اس ایئر شو کی بین الاقوامی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
نمایاں معاہدوں میں ایمریٹس ایئر لائن کا بوئنگ سے 65 اضافی 777-9 طیارے اور ایئربس سے آٹھ A350-900 طیارے خریدنے کا معاہدہ شامل ہے جن کی مجموعی مالیت 41.
ایونٹ میں اس بار تاریخ کا سب سے بڑا اسپیس پویلین بھی شامل تھا جو یو اے ای اسپیس ایجنسی کے اشتراک سے منعقد کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔