دبئی ایئر شو میں 202 ارب ڈالر سے زائد کے معاہدوں کا نیا ریکارڈ قائم
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
دبئی:
متحدہ عرب امارات میں دبئی ایئر شو 2025 نے 202 ارب ڈالر سے زائد کے معاہدوں کے ساتھ ایک نیا ریکارڈ قائم کیا جو کہ 2023 کے مقابلے میں دگنا ہے۔
اماراتی نیوز ایجنسی وام کے مطابق دبئی ائیر شو عالمی سطح پر منعقد ہونے والے سب سے بڑے ایوی ایشن ایونٹس میں سے ایک ہے جس میں 2 لاکھ 48 ہزار سے زائد ماہرین، ماہرینِ صنعت اور سیاحوں نے شرکت کی۔
ایونٹ میں 1500 سے زائد نمائش کنندگان نے حصہ لیا جن میں سے 440 نے پہلی بار شرکت کی جبکہ 115 ممالک کی 490 فوجی اور سول وفود نے بھی شرکت کی جو کہ اس ایئر شو کی بین الاقوامی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
نمایاں معاہدوں میں ایمریٹس ایئر لائن کا بوئنگ سے 65 اضافی 777-9 طیارے اور ایئربس سے آٹھ A350-900 طیارے خریدنے کا معاہدہ شامل ہے جن کی مجموعی مالیت 41.
ایونٹ میں اس بار تاریخ کا سب سے بڑا اسپیس پویلین بھی شامل تھا جو یو اے ای اسپیس ایجنسی کے اشتراک سے منعقد کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔