اسلام آباد ایئر پورٹ پر غیر ملکی طیارہ حادثے سے بچ گیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
اسلام آباد ایئر پورٹ پر غیر ملکی ایئر لائن کا طیارہ لینڈنگ کے دوران ہولناک حادثے سے بچ گیا۔
پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) ذرائع کے مطابق ایئر ٹریفک کنٹرولر کے بروقت اقدام نے طیارے کو بند رن وے پر لینڈنگ کرنے سے روک دیا۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ غیرملکی ایئر لائن کی پرواز جدہ سے اسلام آباد پہنچی تھی۔
اسلام آباد ایئر پورٹ کا رن وے 28 لیفٹ مرمت کے لیے بند ہے، پی اے اے نے رن وے 28 لیفٹ بند ہونے اور رن وے 28 رائٹ کھلے ہونے کا نوٹم بھی جاری کیا ہوا ہے۔
ایئر لائن کے پائلٹ نے لینڈنگ اپروچ 28 رائٹ کی بجائے 28 لیفٹ کے بند رن وے کی بنائی، کنٹرول ٹاور پر موجود ایئر ٹریفک کنٹرولر نے طیارے کے پائلٹ کو غلط رن وے پر ہونے کا بتایا۔
غیر ملکی ایئرلائن کا پائلٹ آخر وقت تک کہتا رہا کہ وہ ٹھیک رن وے پر ہے، ایئر ٹریفک کنٹرولر نے عین وقت پر پائلٹ کو لینڈنگ سے روک کر دوبارہ چکر لگانے کا کہا۔
دوسری کوشش میں ایئر لائن کے بوئنگ 777 طیارے نے درست رن وے پر لینڈ کیا، جس وقت طیارے نے 28 لیفٹ پر لینڈنگ اپروچ بنائی اس وقت رن وے پر بڑی تعداد میں لوگ اور گاڑیاں موجود تھیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ غلط رن وے پر لینڈنگ ہو جاتی تو سنگین حادثہ پیش آ سکتا تھا، بوئنگ 777 طیارے میں سیکڑوں مسافر موجود تھے۔
ترجمان پی اے اے کے مطابق پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی نے واقعے کا نوٹس لے لیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: اسلام ا باد ایئر لائن رن وے پر
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔