پشاور ایف سی ہیڈکوارٹر پر دہشت گردی اور لبنان پر اسرائیلی جارحیت قابلِ مذمت ہے، علامہ نثار قلندری
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
اپنے بیان میں شہداء کے اہلِ خانہ سے گہری تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بہادر ایف سی جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر بڑے سانحے کو ٹالا، جو خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ جعفریہ الائنس پاکستان کے سینئر نائب صدر علامہ نثار احمد قلندری نے پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹر پر خودکش حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے قومی سلامتی پر سنگین حملہ قرار دیا ہے۔ علامہ نثار احمد قلندری نے اپنے بیان میں شہداء کے اہلِ خانہ سے گہری تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بہادر ایف سی جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر بڑے سانحے کو ٹالا، جو خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند ہفتوں سے ملک میں دہشت گردی کے واقعات خطرناک حد تک بڑھ چکے ہیں، وانا، اسلام آباد اور پشاور کے حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ دشمن قوتیں پاکستان کو دوبارہ دہشت گردی کی آگ میں جھونکنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ علامہ نثار قلندری نے مزید کہا کہ قوم ریاستی اداروں سے موثر حکمتِ عملی، شفاف انٹیلی جنس شیئرنگ اور عملی اقدامات کی توقع رکھتی ہے، دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور مالی مددگاروں کے خلاف سخت کارروائی ناگزیر ہوچکی ہے۔دوسری جانب لبنان میں صہیونی دہشتگردی اور اسکے نتیجے میں اسلامی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کے اہم کمانڈر ہیثم علی الطباطبائی کی شہادت کی مذمت کرتے ہوئے علامہ نثار قلندری نے کہا کہ صہیونی ریاست عالم اسلام میں کینسر کی مانند ہے، جب تک اس مرض کو جڑ سے ختم نہیں کیا جاتا یہ اسلامی ریاستوں میں بدامنی پھیلاتا رہے گا، عالم اسلام صہیونی دھوکہ کو سمجھیں اور متحد ہوکر اس جرثومے کا مقابلہ کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: علامہ نثار کرتے ہوئے کہا کہ
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔