بدحال ریلوے نظام اور بلٹ ٹرین کے دعوے
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251126-03-4
پاکستان ریلوے ایک زمانے میں ترقی کی پٹڑی پر دوڑنے والی امید تھی مگر آج اس کی حالت دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے کسی نے ادارے کے جسم سے روح کھینچ لی ہو اور افسوس اس بات کا ہے کہ یہ تباہی اْس دور میں ہو رہی ہے جب وزارتِ ریلوے ایک ایسے شخص کے پاس ہے جس نے ظلم، قید اور سیاسی انتقام سہہ کر اقتدار تک دوبارہ رسائی حاصل کی۔ توقع تھی کہ وزیر ریلوے حنیف عباسی جس نے خود تکلیف دیکھی وہ عوام کی تکلیف کا درد زیادہ شدت سے محسوس کرے گا، مگر صورتحال اس کے بالکل برعکس نکلی۔ پھر اسی تباہ حال نظام میں ایک خبر آئی کہ ریلوے حکام 2030 تک کراچی سے لاہور بلٹ ٹرین چلانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ یہ خبر پڑھ کر بے اختیار ہنسی آگئی۔ سمجھ میں نہیں آتا یہ منصوبہ ہے، لطیفہ ہے، یا قوم کے ساتھ تازہ مذاق۔ ذرا سوچیے کہ جو لوگ ایک عام ٹرین نہیں چلا سکتے، وہ 350 کلو میٹر فی گھنٹہ کی بلٹ ٹرین چلائیں گے؟ جس ریل کے ٹکٹوں کی آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی آن لائن بْکنگ نہیں ہوسکتی وہ محکمہ بلٹ ٹرین چلائے گا؟
چلیے آپ کو رودادِ سفر سْناتے ہیں۔ ہم جماعت ِ اسلامی پاکستان کے اجتماع عام کی کوریج کے لیے 20 نومبر کو ساٹھ صحافیوں کے ہمراہ کراچی سے تیزگام میں سوار ہوئے۔ ہم نے سوچا شاید ریلوے کی حالت بہتر ہوئی ہو گی، مگر کراچی اسٹیشن پر قدم رکھتے ہی یہ خوش فہمی یوں ٹوٹ گئی جیسے کوئی شیشہ پتھر سے ٹکرا جائے۔ بوگی نمبر آٹھ کی حالت قابل ِ شرم تھی۔ نہ پانی، نہ صفائی، نہ ٹوائلٹ کے دروازے بند ہوتے تھے۔ کموڈ ٹوٹے ہوئے، نالی سے پانی ٹپکتا ہوا، فرش پر جمع پانی گویا کسی نے بوگی کے اندر ایک چھوٹا سا تالاب بنا دیا ہو۔ کپڑوں کا ناپاک ہونے سے بچانا تقریباً ناممکن تھا۔ ہم نے سوچا شاید ایک بوگی خراب ہو، مگر دوسری میں گئے تو وہ بھی اسی حال میں ملی۔ یہاں سمجھ میں آیا کہ یہ صرف بد انتظامی نہیں بلکہ بد نیتی ہے۔ صاف لگ رہا تھا کہ ٹرین کو بغیر صفائی اور بغیر مینٹیننس کے ہی واپس روانہ کر دیا گیا ہے۔ گارڈ صاحب سے درخواست کی کہ شکایتی رجسٹر میں ہماری شکایت درج کریں، مگر موصوف تو ہم سے بھی زیادہ ’’سمجھدار‘‘ نکلے۔ صاف کہہ دیا کہ اس ٹرین میں شکایتی رجسٹر یا لاگ بک نام کی کوئی شے ہے ہی نہیں۔ یوں لگا جیسے شکایات نہیں، شکایت کرنے والے ہی مسئلہ ہوں۔ پانی کے بارے میں پوچھا تو جواب ملا ’’روڑھی پہنچ کر بھر دیا جائے گا‘‘۔ گویا کراچی سے روڑھی تک انسان نہیں بلکہ کوئی بیجان مخلوق سفر کر رہی ہو جسے آٹھ گھنٹے تک پانی کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ ساتھ موجود اے آر وائی کے صحافی فیض اللہ خان سمیت دیگر ساتھیوں نے بھی یہی اذیت بیان کی، مگر ریلوے عملہ اس بدحالی کا اس قدر عادی ہو چکا تھا کہ جیسے یہ کوئی مسئلہ نہیں بلکہ نظام کا حصہ ہو۔ ہمارا تکلیف دہ سفر چار گھنٹے کی تاخیر کے ساتھ انجام کو پہنچا۔
لاہور سے واپسی پر دل میں خوش گمانی تھی کہ شاید حالات بدل جائیں چونکہ اجتماع عام کے اختتام پر امیر جماعت حافظ نعیم الرحمن نے دیگر اداروں کے ساتھ ریلوے حکام و عملے کا بھی خصوصی شکریہ ادا کیا تھا۔ مگر ٹرین میں قدم رکھتے ہی یوں محسوس ہوا جیسے ریلوے کی لغت سے ’’بہتری‘‘ کا لفظ ہمیشہ کے لیے حذف کر دیا گیا ہو۔ بعض شرکا نے بتایا کہ لاہور روانگی کے وقت ان کے لیے مختص پوری ایک بوگی ہی غائب تھی۔ اب سیکڑوں میل کا سفر بغیر سیٹ کے کیسے کیا جاتا؟ بالآخر مسافروں کے شدید احتجاج پر ٹرین کو لانڈھی اسٹیشن پر روک کر مسئلہ حل کیا گیا، مگر اصل سوال وہیں کھڑا رہا کہ اس سنگین غفلت کا ذمے دار کون تھا؟ کون جواب دہ ہوگا؟ مگر افسوس کہ ہمیشہ کی طرح کسی کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ پھر یہاں سوال جنم لیتا ہے کہ پاکستان ریلوے واقعی وزارت ریلوے چلا رہی ہے، یا پھر وہ تاجر لابی جو سرکاری ٹرینوں کو جان بوجھ کر تباہی کی دہلیز تک پہنچا کر انہیں پرائیویٹ سرمایہ داروں کے ہاتھوں بیچنے کی راہ ہموار کر رہی ہے؟
اس شبہے کو تقویت اس بات سے بھی ملتی ہے کہ پرائیویٹ سیکٹر میں چلنے والی دو ٹرینیں ریاستی ٹرینوں سے کہیں بہتر حالت میں ہیں۔ یہ بات خوشی نہیں، افسوس پیدا کرتی ہے۔ کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ حکومت ایک قومی ادارہ نہیں چلا سکتی، لیکن ایک تاجر چلا لیتا ہے۔ پھر سوال اٹھتا ہے: کیا وزارت واقعی اتنی نالائق ہے یا پھر جان بوجھ کر نظام کو برباد کیا جا رہا ہے تاکہ آخرکار یہ سب کچھ ٹھیکے پر دے دیا جائے؟ ایسے میں خواجہ سعد رفیق کا دور یاد آتا ہے، جب ریلوے کو دوبارہ پیروں پر کھڑا کیا گیا تھا۔ لیکن اس دیانت اور قابلیت کو جرم بنا کر خفیہ ہاتھوں نے انہیں پارلیمنٹ سے باہر پھینک دیا۔ حالیہ سفر میں یہ بات بھی کھل کر سامنے آئی کہ ریلوے کا عملہ غیر حاضر رہتا ہے، مینٹیننس کا نظام مفلوج ہے، نظم و ضبط کا کوئی وجود نہیں، اور وزیر صاحب شاید اپنی ہی وزارت کے زمینی حقائق سے مکمل بے خبر ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان ریلوے جیسے ادارے خود تباہ نہیں ہوتے انہیں تباہ کیا جاتا ہے۔ وزیر ِ ریلوے حنیف عباسی صاحب کو یہ سمجھنا چاہیے کہ جب قوم پہلے سے موجود ریلوے نظام کی بدانتظامی اور اذیت میں جکڑی ہو تو ایسے میں بڑے منصوبے، بلند وعدے اور خوابوں کی پرشکوہ باتیں محض تماشا بن کر رہ جاتی ہیں۔ لہٰذا گزارش ہے کہ پہلے موجودہ ریل کے نظام کو عزت کے ساتھ چلانا سیکھیں پھر بلٹ ٹرین کے لطیفوں سے قوم کو بہلانے کی کوشش کیجیے گا۔ جس موجود نظام کو صرف سنبھالنا تھا وہ بھی ہاتھوں میں ٹوٹ رہا ہے، وہاں نئی ٹرینوں کے خواب دکھانا ترقی نہیں قوم کے ساتھ مذاق ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ناتمام (آخری قسط)
ہارون صاحب کی کتاب ’’ناتمام‘‘ میں کچھ غیر معمولی شخصیات کے بارے میں لکھی گئی تحریریں بے حد دلنشین ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں ’’کبھی کبھی یہ طالب علم سوچتا ہے سیدنا علی بن عثمان ہجویریؒ کے بعد شاید اقبالؔ ہی وہ مفکر تھے، جنھوں نے امت کے ادبار پر دل سوزی کے ساتھ پیہم تدبر کیا، جس برصغیر میں وہ پیدا ہوئے تھے، اسے الوداع کہا تو وہ بدل چکا تھا، مسلم برصغیر کو امید اور امکان کی راہ دکھانے میں ان کا حصہ کسی بھی شخص سے زیادہ تھا، یہ اقبالؔ ہی تھے، جنھوں نے کہا تھا: جہاں کہیںجہاں میں روشنی ہے، مصطفیؐ کے طفیل ہے یا مصطفی ؐ کی تلاش میں! ۔۔۔۔‘‘
’’سیّد ابوالاعلیٰ نے آخری دنوں میں اقبالؔ سے فیض پایا۔ ان کی وفات پر اپنے مضمون ’’اقبالؔ، میرا نفسیاتی سہارا‘‘ میں لکھا ’قرآنِ کریم ان کے لیے ایک شاہ کلید تھا، تمام بند دروازے جس سے کھل جاتے‘آج کل کے دانشور کیا ہیں کہ مغرب کی چکاچوند نے جنھیں اندھا کردیا، جو یہ نہیں سمجھتے کہ ترقی، علم اور ارتقا، تقلید میں نہیں ہوتا، جہاں جو چیز اچھی ہے، وہ لے لی جاتی ہے اور جو ناقص ہو، وہ ترک کردینی چاہیے اور یہ عالمانِ دین ہیں کہ اکیسویں صدی میں قبائلی عہد میں زندہ رہنے پر مصر ہیں، جنھیں سرکارؐ کا پڑھایا ہوا اولین سبق ہی یاد نہیں۔ غوروفکر، حسنِ کلام، حکمت اور دلیل کے ساتھ مکالمہ، دردمندی اور دل سوزی کے ساتھ تفکّر اور تدبّر درکار ہے۔‘‘
مصنّف قائد اور اقبالؒ کا پھر ایک کالم میں ذکر کرتے ہیں ’’یہ قوم اپنے دو عظیم رہنماؤں کو بھول گئی۔ جناح ایسے تھے کہ عمر بھر تین باتوں کا طعنہ انھیں کبھی نہ دیا گیا۔ کبھی وعدہ نہ توڑا، کبھی مالی بے قاعدگی نہیں، کبھی جھوٹ نہ بولا۔ اقبالؔ ایسے کہ تمام فکری تعصبات سے اوپر اٹھ کر سوچ بچار کیا اور پیہم کیا، تمام خلوص، تمام صلابتِ کردار۔۔ نہیں، فقط سیاست سے ہماری زندگی نہیں بدلے گی، تعلیم، غوروفکر اور حسنِ کردار۔ حضورؐ نے ارشاد فرمایا تھا: اللہ جسے ہدایت دینا چاہے، اپنی آنکھ اس پر کھول دیتا ہے۔ دوسروں کے عیب چننے سے نہیں، حیات اپنی اصلاح سے ثمر بار ہوتی ہے۔‘‘ مصنّف نے کیا دلپذیر باتیں لکھی ہیں جو ہرشعبۂ حیات کے لیڈر کو پڑھنی چاہئیں۔
ناتمام میں مصنف نے بھٹوصاحب کا بھی تجزیہ کیا ہے، لکھتے ہیں ’’بھٹو حیرت انگیز خامیوں اور خوبیوں کا مجموعہ تھے۔ 1965کی جنگ کے ہنگام وہ ایک قوم پرست بن کر ابھرے، جب بھارت کے خلاف ہزار سالہ جنگ کا انھوں نے نعرہ لگایا، غریب آدمی کے احساسات کا انھوں نے ادراک کیا، سندھ اور پنجاب میں وہ ایک مقبول رہنما بن کر ابھرے مگر 1970 کے انتخابی نتائج کو عملاً انھوں نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ شیخ مجیب الرحمٰن کو واضح اکثریت حاصل ہوئی تو جنرل یحییٰ سے انھوں نے گٹھ جوڑ کرلیا اور انتقالِ اقتدار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئے، ان دو آدمیوں کی ہوسِ اقتدار نے پاکستان کے دولخت ہونے کی بنیاد فراہم کی۔‘‘
پھر لکھتے ہیں ’’ایک راز بھٹو نے پالیا تھا۔ لیڈر وہ شخص ہوتا ہے، جو کسی قوم کی عمیق ترین، سب سے بنیادی اور سب سے بڑی آرزو کو پوری طرح پہچان لے۔ جنگِ ستمبر تک، وہ فیلڈ مارشل ایوب خان کے درباری تھے، کبھی اسے صلاح الدین قرار دیتے اور کبھی ایشیا کا ڈیگال۔ جنگِ ستمبر میں پہلی بار دلوں میں یہ امید جاگی کہ کشمیر پہ دشمن بھارت کا تسلّط تمام ہوسکتا ہے، بھٹو نے اس نجیب آرزو کو پہچانا اور اس کا مظہر بن گئے، اقوامِ متحدہ میں جاری مباحث کے دوران، جن کا ایک ایک لفظ غور سے پڑھا اور سنا جایا کرتا، بھٹو نے بھارت کے ’’میسنے‘‘ وزیرِ خارجہ سردار سورن سنگھ کو مخاطب کرکے کہا: لڑنا پڑا تو کشمیر کے لیے ایک ہزار برس تک بھی ہم لڑیں گے، تبھی وہ ہیرو بن کر ابھرے۔ ہاں! مگر ان کا کوئی عقیدہ نہ تھا، قوم پرست وہ یقیناً تھے اور بے شک انھوں نے پہلی بار Anti Estabhishment پارٹی تشکیل دی مگر خود پسند، اقتدار کے حریص اور نرگسیت کے مارے۔ باقی سب تاریخ ہے"
پاکستانی سیاست کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’ پاکستانی سیاست اور معاشرے کا مرض یہ ہے کہ سائنسی اندازِ فکر سے وہ محروم ہے۔ تعصّبات اور جذبات کا غلبہ اس قدر ہے کہ کبھی نفرت چھا جاتی ہے اور کبھی محبت۔ بھٹو صاحب کے مداحوں سے عرض کیجیے کہ بے شک مقبول وہ بہت تھے۔
بجا کہ ملک کو انھوں نے دستور عطا کیا، ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، جذباتی توازن سے مگر وہ محروم تھے اور پرلے درجے کے انتقام پسند۔ دوسروں کا تو ذکر ہی کیا، اپنی پارٹی کے سیکریٹری جنرل جے رحیم کو پٹوایا۔ قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے رکنِ اسمبلی ملک سلیمان اور ان کے خاندان کی تذلیل کی، اپنے وزیرِ اعلیٰ حنیف رامے کو شاہی قلعے میں قید رکھا۔ پارٹی کے ایک دوسرے لیڈر احمد رضا قصوری پر قاتلانہ حملے میں ان کے والد مارے گئے۔ کوئی نہیں سنتا، کوئی نہیں مانتا۔‘‘
کتاب کے مصنّف، عمران خان کے سب سے بڑے سپورٹر تھے اور شاید اب بھی ہیں مگر اس کتاب میں انھوں نے اس کی خامیاں بھی چھپانے کی کوشش نہیں کی، لکھتے ہیں ’’لاہور میں موسم بہار کی ایک سویر جب میں زمان پارک میں اسے ملنے گیا تو وہ ورزش میں مصروف تھا۔ کچھ دیر کے بعد وہ نمودار ہوا اور ضرورت سے زیادہ پُراعتماد لہجے میں کہا’’اپنے جسم پر بھی آدمی کو سرمایہ کاری کرنی چاہیے‘‘ ۔ ’’جی ہاں‘‘۔ عرض کیا ’’اپنے ذہن پر بھی‘‘۔ اسے دھچکا لگا ’’تمہارا مطلب یہ ہے کہ میں نے ذہن پہ سرمایہ کاری نہیں کی‘‘۔ ہاں! میں نے جواب دیا ’’میرا مطلب یہی ہے‘‘۔ بدمزہ نہیں، وہ کچھ حیران سا ہوا اور ناشتے میں جُت گیا، پھل، دہی، ڈبل روٹی کے دو ٹکڑے اور بہت سا جوس۔ مجال ہے کہ ایسے میں دوسروں کو وہ دعوت دے‘‘۔
پھر لکھتے ہیں ’’عمران خان اپنی پہاڑ سی غلطیوں کو بھلا کر ظفرمندی کے خواب کا اسیر تھا، 11 مئی کی صبح احسن رشید سے کہا کہ انتخابی نتائج سنتے ہی شوکت خانم اسپتال آجانا کہ جشن منایا جاسکے۔ اپنے بچوں سے لندن میں کہہ آیا تھا کہ اگلی بار وزیراعظم کی حیثیت سے برطانیہ آئے گا۔ نتیجہ نکلا تو صرف اس کی نہیں، پارٹی کے تمام بزر جمہروں کی رائے یہ تھی کہ قبول کرلینا چاہیے۔
الجھے ہوئے ذہن کے ساتھ کئی ماہ وہ مخمصے کا شکار رہا، پارٹی کو ان دنوں دو تین گھنٹے سے زیادہ وقت نہ دیا کرتا۔ شاطروں نے سمجھ لیا کہ اسے الّو بنانے میں کامیاب رہے‘‘۔ ایک اور جگہ لکھتے ہیں ’’ناقابلِ فہم بات یہ ہے کہ دس حلقے کھولنے کی شرط کے ساتھ مفاہمت پہ آمادگی کے بعد تحریکِ انصاف کے سربراہ وزیراعظم کے استعفیٰ کی تاریخیں کیوں دینے لگے؟ نوبت پھر تھرڈ امپائر کی انگلی تک پہنچی، بلا استثنیٰ سبھی کا تاثر یہ تھا کہ کپتان کا اشارہ عسکری قیادت کی طرف ہے۔ کئی دن بعد کپتان نے اعلان کیا کہ ان کی مراد اللہ تعالیٰ سے تھی۔ اللہ تعالیٰ امپائر نہیں، وہ کائنات اور زندگی کا خالق ہے۔ حیات کی تمام حرکیات اور قوانین کا، وہ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ ذاتِ باری تعالیٰ کو کرکٹ کے امپائر سے تشبیہہ دینا پرلے درجے کی بدذوقی اور سطحیت تھی۔ کپتان اگر انھی لوگوں کے زیرِ اثر رہا، جن کے زیرِ اثر ہے تو مستقبل میں بھی اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے‘‘۔
کچھ دوسرے لیڈروں کے بارے میں لکھتے ہیں ’’چوہدری نثار علی میں صلاحیّت بے پایاں تھی مگر روحانی جہت معمولی۔ کھٹ سے اللہ کی رحمت کا دروازہ کھلتا مگر بن مانگے تو گاہے وہ گھاس بھی نہیں دیتا، چہ جائیکہ عظمت ورفعت۔ یوں بھی عظمت غریبوں، دکھ جھیلنے اور ایثار کرنے والوں کے لیے ہوتی ہے۔ چوہدری کہاں، شریف برادران کہاں، ان کے مقاصد محدود ہیں۔ اقتدار کا انبساط، جو دنیا کا سب سے تباہ کن نشہ ہے، جان چھوڑتا ہی نہیں، عزتِ نفس اور شان وشوکت کا ایک سطحی سا تصور۔عمران خان سمیت سبھی کا حال پتلا ہے۔ پانی پت کی تیسری جنگ لڑنے جاتے ہیں اور لشکر سراج الدولہ سے بدتر۔ رہے علّامہ طاہرالقادری تو جرأت ہی نہیں، جسارت ہی نہیں، فقط زورِ خطابت۔ کوئی دن میں غبارہ پھٹ جائے گا‘‘۔
’’اچھی حکمرانی کی بے تاب تمنا بھی بجا۔ بحث بہت ہوچکی۔ سیاست کے قرینوں سے اب ہم آگاہ ہیں مگراس کے لیے سیاست کافی نہیں زندگی جوڑ توڑ سے بہت بڑی ہے۔ علم اور اخلاق کے بغیر معاشرے، اقوام نہیں، ریوڑ ہوتے ہیں۔ علم، اخلاق اور تربیت۔ قرآن کریم اور اس کا صاحب انوار شارع۔۔ اور ہاں جدید علم!‘‘
ہر طبقۂ فکر کے لوگوں خصوصاً سیاست میں دلچسپی رکھنے والوں کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔