اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) اوگرا نے کہا ہے کہ رواں مالی سال کیلئے گیس کی قیمتوں میں کمی نہیں اضافے کی منظوری دی گئی ہے۔ قبل ازیں ترجمان اوگرا کی طرف سے گیس قیمتوں میں کمی سے متعلق اعلامیہ جاری کیا گیا تھا۔ اوگرا کے فیصلے میں گیس کی اوسط قیمتوں میں 7.14 فیصد تک اضافے کی منظوری دی گئی ہے۔ سوئی سدرن کیلئے گیس کی قیمت میں 7.

19 فیصد اور سوئی ناردرن کیلئے گیس کی اوسط قیمت 4.89 فیصد اضافے کی منظوری دی گئی ہے۔ سوئی ناردرن کیلئے یہ اضافہ 86 روپے 30 پیسے فی ایم ایم بی ٹی یو بنتا ہے۔ سوئی سدرن کیلئے گیس 118 روپے 47 پیسے فی ایم ایم بی ٹی یو مہنگی کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ سوئی سدرن کیلئے گیس کی قیمت 1777 روپے 02 پیسے فی ایم ایم بی ٹی یو کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ سوئی ناردرن کیلئے گیس کی قیمت 1852 روپے 80 پیسے فی ایم ایم بی ٹی یو کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ سابقہ شارٹ فال میں گیس کمپنیوں کیلئے 60 ارب 88 کروڑ روپے ایڈجسٹمنٹ کی اجازت دی۔ اس سے قبل اوگرا نے گیس کی قیمتوں میں اوسط 3  سے 8 فیصد تک کمی کا دعویٰ کیا تھا۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: پیسے فی ایم ایم بی ٹی یو کی منظوری دی گئی ہے کیلئے گیس کی قیمت قیمتوں میں

پڑھیں:

پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز

اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔

دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔

توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار