سعودی عرب کی عالمی انسان دوستی اور صحت کے شعبے میں قائدانہ حیثیت ایک بار پھر نمایاں ہوگئی ہے، جہاں اقوام متحدہ نے 24 نومبر کو عالمی یومِ جڑواں ملتصق بچوں کے طور پر باضابطہ منظور کرلیا ہے۔

یہ اعلان مملکت کی پیش کردہ تجویز اور خادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی سرپرستی میں جاری انسانی و طبی وژن کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب: آپریشن کے ذریعے دھڑ جُڑے بچوں کو جُدا کر دیا گیا

اس فیصلے سے نہ صرف سعودی عرب کی عالمی ساکھ مزید مضبوط ہوتی ہے بلکہ جڑواں ملتصق بچوں کی صحت، حقوق اور سماجی شمولیت کے لیے ایک بین الاقوامی فریم ورک بھی قائم ہوتا ہے۔

نیویارک میں خصوصی تقریب کا انعقاد

نیویارک میں اس موقع پر ایک خصوصی تقریب منعقد ہوئی۔ اس کا انعقاد شاہ سلمان سینٹر برائے امداد و انسانی خدمات اور یونیسف کے اشتراک سے ہوا، جبکہ اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل مندوب ڈاکٹر عبدالعزیز الواصل سمیت متعدد عالمی نمائندے شریک ہوئے۔ مرکزی خطاب مشیرِ دیوانِ شاہی اور مرکز کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ بن عبدالعزیز الربیعہ نے کیا۔

دنیا بھر کے معذور بچوں کو درپیش چیلنجز

اپنے خطاب میں ڈاکٹر الربیعہ نے کہا کہ دنیا بھر میں معذور بچے سب سے زیادہ نظر انداز اور کمزور طبقہ ہیں۔ عالمی بحرانوں کے دوران جب صحت کے نظام دباؤ کا شکار ہوتے ہیں تو یہ بچے خصوصی تعلیم، بحالیاتی خدمات، علاج، اور مددگار آلات تک رسائی سے بھی محروم رہ جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کئی ممالک میں پیچیدہ طبی کیسز کی تشخیص اور علاج کے لیے بنیادی سہولیات تک میسر نہیں، جس سے بچوں اور ان کے خاندانوں پر جسمانی، ذہنی اور مالی بوجھ بڑھ جاتا ہے۔

سعودی عرب کا عالمی معیار کا جراحی پروگرام

ڈاکٹر الربیعہ نے بتایا کہ سعودی عرب نے جڑواں ملتصق بچوں کی جراحی کے میدان میں عالمی سطح پر ممتاز مقام حاصل کیا ہے، کیونکہ یہ سرجری انتہائی پیچیدہ ہوتی ہے اور اس کے نتائج کا مکمل انحصار بچوں کے جسمانی اتصال اور مشترکہ اعضا کی نوعیت پر ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:نوزائیدہ جڑواں بچے پیدائشی سرٹیفکیٹ بننے سے قبل ہی شہید، غزہ جنگ کا دل دہلا دینے والا واقعہ

انہوں نے کہا کہ اسی ضرورت کو پیش نظر رکھتے ہوئے مملکت نے 1990 میں سعودی پروگرام برائے جڑواں ملتصق بچے قائم کیا، جو اب دنیا کے معتبر ترین خصوصی جراحتی پروگراموں میں شمار ہوتا ہے۔

152 کیسز کا جائزہ، 67 کامیاب سرجریز

انہوں نے بتایا کہ اب تک اس پروگرام نے 28 ممالک سے آنے والے 152 کیسز کا تفصیلی جائزہ لیا ہے، جن میں سے 67 پیچیدہ جراحی عمل کامیابی سے مکمل کیے جا چکے ہیں۔ یہ کامیابی سعودی ماہرین کی تجربہ کار قیادت اور ملک میں دستیاب جدید ترین طبی سہولیات کا ثبوت ہے۔

ڈاکٹر الربیعہ نے واضح کیا کہ پروگرام کی خصوصیت یہ ہے کہ جراحی کے بعد بھی بچوں اور ان کے اہل خانہ کے لیے طویل مدتی طبی، نفسیاتی اور بحالیاتی معاونت فراہم کی جاتی ہے، تاکہ یہ بچے صحت مند زندگی اور سماجی شمولیت کے سفر کو بہتر انداز میں جاری رکھ سکیں۔ ساتھ ہی انہیں تعلیم کے مساوی مواقع دینا بھی بنیادی ترجیح ہے۔

خصوصی ضروریات کے بچوں کے لیے عالمی اپیل

اپنے خطاب کے اختتام پر ڈاکٹر الربیعہ نے عالمی برادری پر زور دیا کہ خصوصی ضروریات رکھنے والے بچوں کے لیے مشترکہ ذمہ داری قبول کرے۔

انہوں نے کہا کہ اگر دنیا شمولیتی پالیسیاں اپنائے، علاج تک رسائی بہتر بنائے اور سماجی بدنامی کے کلچر کو ختم کرنے میں کردار ادا کرے تو یہ بچے نہ صرف زندگی میں آگے بڑھ سکتے ہیں بلکہ ایک باوقار اور محفوظ مستقبل بھی حاصل کرسکتے ہیں۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ عالمی یومِ جڑواں ملتصق بچے، دنیا بھر میں خصوصی نگہداشت کے محتاج بچوں کے لیے ترقی، امید اور بہتر امکانات کی نئی راہیں کھولے گا۔

 

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ڈاکٹر الربیعہ سعودی عرب عالمی یومِ جڑواں ملتصق بچے.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ڈاکٹر الربیعہ عالمی یوم جڑواں ملتصق بچے ڈاکٹر الربیعہ نے عالمی یوم نے کہا کہ انہوں نے بچوں کے کے لیے

پڑھیں:

میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔

منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔

برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں

مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے