پاکستان کی پہلی خاتون فائٹر پائلٹ مریم مختار کی شہادت کو10 سال بیت گئے
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: پاکستان کی پہلی خاتون فائٹر پائلٹ مریم مختار کی شہادت کو 10 سال بیت گئے۔ قوم کی قابل فخر بیٹی کو تمغہ بسالت سے بھی نوازا گیا۔
فلائنگ آفیسرمریم مختیار 24 نومبر 2015 کو میانوالی کے قریب تربیتی پرواز کے دوران طیارہ کریش میں شہید ہو گئی تھیں۔قوم کی قابل فخر بیٹی مریم مختیار نے ہزاروں فٹ کی بلندی پر اڑنے والے تربیتی جنگی جہاز میں پیدا ہونے والی خرابی کے دوران انسانی آبادی کو بچاتے ہوئے جام شہادت نوش کیا ۔
مریم مختارنے مئی 2011 کو پاک فضائیہ کے 132ویں جی ڈی پائلٹ کورس میں شمولیت اختیار کی، تربیت کے دوسرے مرحلے میں مریم پاک فضائیہ کے ان جانبازوں کی صف میں شامل ہونے جا رہی تھی، جنھوں نے 1965 اور 1971 کی جنگوں میں بہادری کی لازوال داستانیں رقم کیں۔
صنف نازک ہونے کے باوجود مریم مختیار نے بہادری کی ایسی تاریخ رقم کی جس کی مثال شاید ڈھونڈنے سے بھی نہ ملے۔ جی ڈی کورس کی تکمیل کے بعد فائٹر کنورشن کے ایک اہم مشن کے دوران مریم مختیار کے ڈبل کاک پٹ تربیتی جنگی جہاز میں اچانک سنگین نوعیت کی فنی خرابی پیدا ہوئی، جس کے بعد یہ بات لازم ہو چکی تھی کہ کم سے کم وقت میں جہاز کو چھوڑ کر کاک پٹ سے پیرا شوٹ کے ذریعے چھلانگ لگائی جائے۔
واضح رہے کہ 18 مئی 1992 کو کراچی میں پیدا ہونے والی مریم نے ابتدائی تعلیم ملیر کینٹ کے اسکول اور کالج سے حاصل کی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مریم مختیار
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔