data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان اسٹیل لیبر یونین پاسلو دی آرگنائزیشن آف پاکستان اسٹیل آفیسرز ٹاپس کے سابق جنرل سیکرٹری اور نیشنل لیبر فیڈریشن کے مرکزی آرگنائزنگ سیکرٹری پاشا احمد گل کے 23ویں یوم شہادت پر پاکستان ورکرز ٹریننگ اینڈ ایجوکیشن ٹرسٹ کے تعاون سے ’’پاشا احمد گل مزدور تحریک کا لازوال کردار‘‘ کے عنوان سے مقامی ہال میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں پاکستان اسٹیل کی موجودہ صورتحال پر اہم قرار داد پیش کی گئی۔

پاکستان اسٹیل مل قومی اہمیت کے حامل ملک کے سب سے بڑا صنعتی اور فولاد سازی کے واحد ادارے کے طور پر کام کرتی رہی ہے جس کی بدولت ملک کو نا صرف قیمتی زر مبادلہ کی بچت حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ اسٹیل آٹو موبائل انڈسٹری، ڈائی اور دیگر تعمیراتی شعبوں میں مقامی بنیادوں پر سستی و معیاری فولاد دستیاب تھی ، یہ ہی نہیں اس سے جڑے لاکھوں افراد کو رو گار، رہائش، تعلیم اور صحت کی سہولیات بھی حاصل تھیں۔ افسوس ناک طور پر گزشتہ 2 دہائیوں میںحکومتی بل پر اور سٹیل مل کے اندر بدانتظامی کرپشن سرکاری پالیسیوں میں عدم تسلسل اور بروقت فیصلہ سازی کے فقدان کے سبب آج یہ قومی ادارہ زوال کا شکار ہے، مل کے ہزاروں ملازمین کسی نوٹس کے بغیر جبری و غیر قانونی برطرفیوں کا شکار ہوئے اور اکثریت آج بھی اپنے واجبات کے حصول سے محروم ہے، حفاظتی انتظامات نہ ہونے کے سب مل میں مصنوعات مشینری، پرزہ جات اور دیگر انوینٹری کی چوریاں معمول بن چکی ہیں اور ان مسائل کے حل کے لیے وفاقی و صوبائی حکومتوں نے کوئی سنجیدہ اقدامات نہیں کیے۔

اجتماع میں یہ قرارداد پیش کی گئیں۔
قرا ر دادیں
حکومت پاکستان کی جانب سے فوری طور پر ایک انتہائی اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیشن قائم کیا جائے جو کرپشن، چوریوں اور بدانتظامیوں کی تحقیقات کرے اور اسٹیل مل کے دوبارہ فعال ہونے کا قابل عمل منصوبہ تیار کرے۔

مل کی بندش سے پیدا ہونے والے مالی نقصانات کا آزادانہ آڈٹ کرایا جائے اور اس کی رپورٹ پارلیمنٹ کے سامنے پیش کی جائے۔

ملک کے قومی اداروں کی نجکاری یا بندش پارلیمنٹ کے فیصلوں سے مشروط کی جائے۔

مل کو دوبارہ فعال کرنے کے عمل میں ملازمین کی نمائندگی کو یقینی بنایا جائے تاکہ شفاف اور قابل قبول فیصلے ہوں۔

بر طرف ملازمین کو بحال کیا جائے بصورت دیگر ان کی برطرفی کو گولڈن ہینڈ شیک کے ذریعے ریٹائر منٹ تصور کیا جائے۔

حاضر سروس ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے اور سہولیات بحال کی جائیں۔

ریٹائر ڈملازمین کے تمام واجبات بشمول گریجوٹی، پروویڈنٹ فنڈ اور پنشن کی ادائیگی کو فوری اور یقینی بنایا جائے۔

اسٹیل ٹاؤن میں گیس، پانی ، بجلی اور صفائی ستھرائی کی سہولیات بحال کی جائیں۔

پاکستان اسٹیل کی ملکیت میں اب بھی وسیع رہائشی زمین ہے، لہٰذا جو ملازمین گلشن حدید فیز 1،2 اور 3 میں پلاٹ حاصل نہیں کر سکتے ہیں ایسے تمام حاضر سروس اور ریٹائر ڈملازمین کے لیے گلشن حدید فیز 4 کا اجراء کر کے انہیں پلاٹ دیے جائیں۔گلشن حدید فیز 1 اور 2 میں پاکستان اسٹیل گزشتہ 45 سال سے پانی فراہم کر رہا تھا اب اس کی فراہمی بند کر دی گئی ہے اور گزشتہ 4 ماہ سے پانی کی فراہمی معطل ہے لہٰذا پاکستان اسٹیل فوری طور پر پانی کی فراہمی کے نظام کو بحال کرے۔

ویب ڈیسک گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پاکستان اسٹیل کیا جائے

پڑھیں:

متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن

امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔

امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔
 

متعلقہ مضامین

  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل