اسپیشل اولمپکس 2025: نمایاں کارکردگی دکھانے والے کے اعزاز میں تقریب
اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT
اسپیشل اولمپکس ورلڈ ونٹرگیمز اٹلی 2025 میں نمایاں کارکردگی اور ملک کا نام روشن کرنے والے کھلاڑیوں کے اعزاز میں اسلام آباد کے نجی ہوٹل میں پروقار تقریب کا انعقاد ہوا۔اس موقع پر مہمان خصوصی اسپیشل اولمپک پاکستان کی چیئرپرسن رونق لاکھانی تھیں۔
تفصیلات کے مطابق اٹلی میں منعقد ہونے والے ونٹر گیمز میں اسپیشل کھلاڑیوں نے شاندار کاکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے متعد میڈلز پاکستان کے نام کیے ان کھلاڑیوں کی بھر پوراندار میں حوصلہ افزاہی کرنے کے لئے پاکستان اسپورٹس بورڈ اور اسپیشل اولمپک کی جانب سے کیش ایوارڈز دیے گے۔
اس موقع پر پاکستان کے کھلاڑی شاہ گلون علی رضا منیب الرحمان کوآرڈینیٹر سعدیہ بیگ آمنہ اشرف ثروت گیلانی کوچز شمائلہ ارم محمد سلیم اسلام آباد ریجن کے کوچ راجہ فیصل اشرف بھی موجود تھے۔
چیئرپرسن رونق لاکھانی کا کہنا تھا کہ ہمارے کھلاڑی ہمارے ہیرو ہیں وفاقی اور سندھ کی حکومت نے ان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزاہی کی ہے۔ حکومت کا تعاون جاری رہا تو یہ قومی ہیروز مزید میڈلز ملک کے نام کریں گے ہمارے یہ اسپیشل کھلاڑی ہمارا اثاثہ ہیں۔
اسپیشل اولمپک کی برینڈ ایمبیسڈر ثروت گیلانی نے کاکہاکہ یہ کھلاڑی صلاحیت میں کسی سے کم نہیں ہیں۔ ہماری آرگنائزیشن کی طرف سے کھلاڑیوں کو سہولیات دی جاتی ہیں۔
شمائلہ ارم کا کہنا تھا کہ بطور کوچ مجھے فخر ہے کہ میں پاکستان کے ان خصوصی کھلاڑیوں کو تربیت فراہم کرتی ہوں پاکستان کے یہ خداد کھلاڑی پاکستان کا فخر ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستان کے
پڑھیں:
رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔
مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔
دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔
اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔