60 سالہ پائلٹ نے 26 سالہ کیبن کریو کو ہوٹل میں جنسی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
بھارتی ایئر لائن کمپنی کے ایک 60 سالہ پائلٹ روہت سرن نے جہاز کی ساتھی عملے کو بنگلور کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق 26 سالہ خاتون کیبن کریو نے پائلٹ کے خلاف شکایت مقامی تھانے میں درج کرائی ہے۔ پولیس نے تفتیش کا آغاز کردیا۔
پولیس کو دیئے گئے بیان میں خاتون کیبن کریو نے بتایا کہ جنسی زیادتی کا یہ واقعہ 18 نومبر 2025 کو مقامی ہوٹل میں پیش آیا۔
نوجوان خاتون کیبن کریو نے مزید بتایا کہ ایک چارٹرڈ فلائٹ کے ذریعے رات گئے بنگلور پہنچے تھے اور واپسی کے لیے رات ہوٹل میں قیام تھا۔
متاثرہ خاتون نے مزید کہا کہ ملزم پائلٹ نے اپنے کمرے کے باہر سگریٹ پینے کی پیشکش کی اور زبردستی کمرے کے اندر کھینچ لیا۔
خاتون کیبن کریو نے مزید بتایا کہ مجھے نوکری سے نکالنے کی دھمکیاں دیکر ڈرا دھمکایا اور تشدد کرکے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔
مقامی تھانے کی پولیس نے اس سنگین نوعیت کے کیس کو مزید تفتیش کے لیے بنگلورو کے ہلاسورو پولیس اسٹیشن منتقل کر دیا گیا۔
بنگلورو پولیس فی الحال تفصیلی بیانات ریکارڈ کرنے، شواہد اکٹھے کرنے، ہوٹل سے سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لینے اور واقعات کی ترتیب کی چھان بین کے عمل میں ہے۔
تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ہے جب کہ پائلٹ کی جانب سے تاحال کوئی بیان جاری یا قانونی چارہ جوئی بھی شروع نہیں کی گئی۔
یاد رہے کہ خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات کے باعث مودی کے ہندوستان کو ریپستان کہا جاتا ہے، جہاں گائے تو محفوظ ہے لیکن ایک عورت کی عزت محفوظ نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: خاتون کیبن کریو نے جنسی زیادتی کا ہوٹل میں
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔