نیب نے عدم ثبوت کی بنیاد پر سابق چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ مزمل حسین کیخلاف انکوائری بند کردی
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
نیب نے عدم ثبوت کی بنیاد پر سابق چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ مزمل حسین کیخلاف انکوائری بند کردی WhatsAppFacebookTwitter 0 24 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)نیب نے سابق چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ مزمل حسین کیخلاف انکوائری بند کردی،نیب ٹیم پچھلے چار سال سے ان کیخلاف تربیلا ڈیم توسیع پروجیکٹ میں مبینہ خرد برد کی شکایت کی انکوائری کررہی تھی۔
2021میں سابق چیئرمین کیخلاف 753 ملین ڈالرز تربیلا توسیع پروجیکٹ میں مبینہ خرد برد کی شکایت درج کرائی گئی تھی،نیب حکام کے مطابق نیب نے سابق چیئرمین واپڈا مزمل حسین کیخلاف انکوائری داخل دفتر کردی ہے۔ نیب حکام کا کہنا ہے کہ نیب ٹیم نے مکمل چھان بین کے بعد عدم ثبوت کی بنیاد پر انکوائری بند کرنے کی سفارش کی تھی،نیب ٹیم نے اپنی تحقیقات اس سال مئی میں نیب میں جمع کرائی تھی۔
نیب ٹیم کی سفارش پر چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل ریٹائر نذیر بٹ نے انکوائری بند کرنے کا حکم صادر کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروزیراعلی خیبرپختونخوا نے چشمہ رائٹ بینک کینال منصوبے میں تاخیر پر وزیراعظم کو خط لکھ دیا وزیراعلی خیبرپختونخوا نے چشمہ رائٹ بینک کینال منصوبے میں تاخیر پر وزیراعظم کو خط لکھ دیا دھاندلی کا الزام ، الیکشن کمیشن نے اسد قیصر کے بیان کا نوٹس لے لیا، کارروائی کا عندیہ چوہدری شہزاد ہنجرا کی جانب سے معزز مہمانوں کے اعزاز میں پرتکلف عشائیہ ،کمیونٹی اتحاد و بھائی چارے کی شاندار مثال برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کا برطانوی ویزا کے خواہش مند پاکستانیوں کو مشورہ چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت جاری ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے جائزہ اجلاس فیڈ رل گو رنمنٹ ایمپلا ئز ہا وسنگ اتھا رٹی کیخلاف شکا یات ،وفاقی محتسب کا نوٹس ، معائینہ ٹیم تشکیل دیدیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: مزمل حسین کیخلاف انکوائری سابق چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل انکوائری بند
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔