خواتین کے موبائل فون ہیک کرکے نازیبا ویڈیوز چرانے والے ملزم کے سنسنی خیز انکشافات
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
کراچی:
عید گاہ پولیس کے ہاتھوں گرفتار مختلف لنکس کے ذریعے خواتین کے موبائل فون اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک کرنے والے ملزم سمیر عرف پی کے نے دورانِ تفتیش سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں۔
ایکسپریس نیوز سے بات کرتے ہوئے ملزم نے اعتراف کیا کہ اس نے لاہور کے ایک شہری سے صرف 5 ہزار روپے میں ایسے مختلف لنک حاصل کیے جس کے ذریعے موبائل فون ہیک کیے جا سکتے تھے۔
سمیر کے مطابق وہ مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز(واٹس ایپ، انسٹا گرام، فیس بک) پر خواتین کو لنکس بھیج کر ان کے موبائل فون یا آئیڈیز ہیک کرتا تھا اور پھر گوگل اکاونٹ کی رسائی حاصل کرکے موبائل فونز کا مکمل ڈیٹا حاصل کرلیتا تھا۔
ملزم سمیر عرف پی کے نے اعتراف کیا کہ آئی ڈی ہیک کرنے کے بعد وہ متاثرہ خواتین کے گوگل اکاونٹس سے انکی ذاتی معلومات حاصل کرکے انہیں پہلے دوستی اور پھر ملنے پر مجبور کرتا تھا۔
سمیر نے مزید بتایا کہ وہ صرف ساتویں جماعت پاس اور بیروزگار ہے جبکہ اسے اس قسم کی ہیکنگ کا علم ایک آن لائن گروپ سے ہوا۔ سمیر نے بتایا کہ سب سے آخر میں رنچھوڑ لائن میں ایک لڑکی کا موبائل فون ہیک کیا جس کے بعد پولیس کے ہاتھوں پکڑا گیا، تفتیش کے دوران سمیر نے انکشاف کیا کہ وہ اب تک 4 خواتین کی نازیبا ویڈیوز بنا چکا ہے اور یہ تمام ویڈیوز اپنے پاس ذاتی تسکین کے لیے محفوظ رکھی ہیں۔
دوسری جانب ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق گرفتار ملزم سے تفتیش کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے جو اس سے برآمد لیپ ٹاپ اور موبائل فونز کی ٹیکنیکل جانچ اور فرانزک کروائے گی جبکہ وفاقی حساس ادارے اور سی ٹی ڈی کے افسران بھی تفتیشی عمل میں شامل ہیں۔
ایس ایچ او تھانہ عید گاہ حفیظ اعوان کے مطابق ملزم سمیر کے موبائل فون سے 450 سے زائد نازبیا ویڈیوز ملی ہیں جبکہ ابتدائی تفتیش کے مطابق مبینہ طور ہر 100 سے زائد لڑکیوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا ہے۔
گرفتار ملزم سمیر گلستان جوہر رابعہ سٹی کا رہائشی اور غیر شادی شدہ ہے۔ اہل خانہ میں والدہ اور بہن شامل ہیں جو ملزم کے کرتوتوں سے واقف ہوتی ہیں۔ سمیر نے ابتدائی بیان میں خود کو ایف اے پاس بتایا تھا تاہم وقت کے ساتھ ساتھ اپنا بیان تبدیل کرتا رہا ہے۔
ملزم کی گرفتاری رنچھوڑ لائن کی ایک لڑکی کی مدد سے عمل میں لائی گئی۔ ملزم سمیر نے متاثرہ خاتون کا موبائل فون بھی ہیک کرلیا تھا تاہم خاتون نے اپنے اہل خانہ کو ملزم کے حوالے سے تفصیلات فراہم کیں جس کے بعد متاثرہ خاتون نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملزم کو ملنے کے لیے بلایا جہاں پولیس نے ملزم کو شواہد کے ساتھ گرفتار کیا۔
ایس ایچ او عید گاہ کے مطابق ملزم متوسط طبقے کی خواتین کو آن لائن کاروبار یا مختلف ایپلیکشن کے ذریعے آسان طریقوں سے پیسے کمانے کا طریقہ بتاتا اور اعتبار بحال ہونے کے بعد ملزم لنکس کے ذریعے پہلے موبائل فون ہیک کرتا اور پھر ذاتی معلومات حاصل کرنے کے بعد خواتین کو بلیک میل کرکے ملنے کے لیے بلاتا اور پھر گھنونا جرم سر انجام دیتا۔
پولیس حکام کے مطابق ملزم سے مزید تفتیش کے لیے ایف آئی اے سائبر کرائم سے رابطہ کیا جارہا ہے، تاہم موبائل فون اور لیپ ٹاپ سے ملنے والے ڈیٹا کی مدد سے تفتیش کو آگے بڑھایا جارہا ہے۔
ذرائع کے مطابق ملزم سے برآمد ہونے والا ڈیٹا ڈارک ویب پر فروخت ہونے کے حوالے سے بھی تفتیش کی جارہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: موبائل فون ہیک کے موبائل فون کے مطابق ملزم کے ذریعے تفتیش کے اور پھر کے بعد کے لیے
پڑھیں:
ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟
سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔
یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔
تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔
مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں
انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔
ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔
تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔
ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔
تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید
ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر