ترجمان ٹی ایل پی نے کہا کہ NA-66 وزیر آباد میں ن لیگی امیدوار کو بلامقابلہ کامیاب قرار دے کر جمہوریت کا دن دھاڑے جنازہ نکالا گیا، NA-66 وزیر آباد سے تحریکِ لبیک پاکستان کے امیدوار، چوہدری بصیرت علی صاحب کے کاغذات نامزدگی بہت پہلے منظور ہو چکے تھے اور انہیں کرین کا نشان بھی الاٹ ہو چکا تھا۔ لیکن 8 اکتوبر کے روز انہیں اغوا کرلیا گیا جس کے بعد ان سے زبردستی سائن کروا کر ان کا نام انتخابی دوڑ سے نکال دیا گیا۔  اسلام ٹائمز۔ ترجمان تحریکِ لبیک پاکستان نے قومی اور پنجاب اسمبلی کے مختلف حلقوں میں منعقد ہونے والے نام نہاد ضمنی انتخابات پر دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتخابات پری پول دھاندلی، انتخابی عمل میں حکومتی و ادارہ جاتی مداخلت، سیاسی انجینئرنگ اور مخصوص امیدواروں کو فائدہ پہنچانے کے لیے ریاستی مشینری کے منظم و غیرقانونی استعمال کا شاخسانہ تھے۔ تحریکِ لبیک پاکستان ان ضمنی انتخابات کو جمہوری نظام پر شب خون قرار دیتے ہوئے یکسر مسترد کرتی ہے۔ ترجمان نے پاکستان کی سب سے بڑی مذہبی و سیاسی جماعت تحریکِ لبیک پاکستان کے خلاف کی جانے والی پری پول دھاندلی کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ سانحہ مریدکے کے بعد قومی اسمبلی کے حلقے NA-96 فیصل آباد، NA-104 فیصل آباد اور NA-143 ساہیوال میں تحریکِ لبیک پاکستان کے نامزد امیدواروں کے کاغذاتِ نامزدگی، الیکشن کمیشن کی طرف سے پنجاب حکومت کے ماتحت ملازمین میں سے مقرر کیے گئے عملے نے جمع کرنے سے انکار کردیا۔ ایسا غیرقانونی اور غیرآئینی طرز عمل، پنجاب اسمبلی کے حلقہ PP-73 سرگودھا اور PP-203 ساہیوال (چیچہ وطنی) میں بھی اپنایا گیا۔ نہ صرف یہ بلکہ کچھ جگہوں پر پنجاب پولیس نے تحریکِ لبیک پاکستان کے نامزد امیدواروں کے وکلا تک تو حراست میں لے لیا۔

 انہوں نے مزید بتایا کہ تحریک لبیک پاکستان نے اس متعلق الیکشن کمیشن آف پاکستان سے رجوع کیا تو 4 نومبر کو کاغذاتِ نامزدگی جمع کر لیے گئے لیکن امیدواروں کو آزاد ظاہر کیا گیا حالانکہ تحریکِ لبیک پاکستان نے انہیں ٹکٹ جاری کیے تھے۔ تحریکِ لبیک پاکستان نے اس غیرجمہوری رویے کے باوجود پھر بھی قانونی راستہ اپنائے رکھا اور ہائی کورٹ میں ان اقدامات کو چیلنج کیا۔ ہائی کورٹ نے تحریکِ لبیک پاکستان کے حق میں ڈائریکشن دی، البتہ عدالتی احکامات کی دھجیاں اڑاتے ہوئے PP-73 سرگودھا کے علاوہ ہر جگہ کاغذاتِ نامزدگی کو مسترد کردیا گیا اور PP-73 میں بھی امیدوار ایڈووکیٹ یونس رانجھا صاحب کو آزاد امیدوار ظاہر کرتے ہوئے کرین کی بجائے بیڈ/پلنگ کا نشان الاٹ کیا گیا۔

 ترجمان ٹی ایل پی نے کہا کہ NA-66 وزیرآباد میں ن لیگی امیدوار کو بلامقابلہ کامیاب قرار دے کر جمہوریت کا دن دھاڑے جنازہ نکالا گیا۔ NA-66 وزیرآباد سے تحریکِ لبیک پاکستان کے امیدوار، چوہدری بصیرت علی صاحب کے کاغذاتِ نامزدگی بہت پہلے منظور ہو چکے تھے اور انہیں کرین کا نشان بھی الاٹ ہو چکا تھا۔ لیکن 8 اکتوبر کے روز انہیں اغوا کرلیا گیا جس کے بعد ان سے زبردستی سائن کروا کر ان کا نام انتخابی دوڑ سے نکال دیا گیا اور اسرائیل نواز لیگ کے امیدوار کو بغیر انتخابات کروائے، بے شرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے، جتوا دیا گیا۔ لاہور کے حلقہ NA-129 اور PP-87 میانوالی میں تحریک لبیک پاکستان کے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی، 8 اکتوبر سے جاری فستطائیت سے قبل منظور ہو چکے تھے البتہ ادھر کسی بھی قسم کی الیکشن کمپین نہیں کرنے دی گئی۔

 PP-73 سرگودھا میں جہاں محترم یونس رانجھا کو آزاد امیدوار تک ظاہر کیا گیا وہاں بھی بندوق اور ڈنڈے کے زور پر ایک بینر تک نہیں لگنے دیا گیا اور جو پہلے سے موجود تھے انہیں پھاڑ دیا گیا اور کسی بھی حلقے میں ہمارا پولنگ کا عملہ بھی نہیں بیٹھنے دیا گیا۔ ترجمان تحریکِ لبیک پاکستان نے انکشاف کیا کہ تحریک لبیک پاکستان کو اس سارے سیاسی انتقام کا نشانہ، قاتل اعلی مریم نواز اور وزیر برائے قتل عام، محسن نقوی کے خصوصی حکم اور سرپرستی میں بنایا گیا اور بنایا جا رہا ہے۔ انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث ان شخصیات نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تمام غیرقانونی اقدامات اٹھانے کی خصوصی تلقین کی ہے۔ تمام حلقوں کے امیدواروں کے گھروں پر چھاپوں اور چادر و چار دیواری کے تقدس کی پامالی تاحال جاری ہے۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: تحریک لبیک پاکستان لبیک پاکستان نے لبیک پاکستان کے امیدواروں کے دیا گیا اور کے امیدوار کے کاغذات کہا کہ

پڑھیں:

خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان

الیکشن کمیشن نے 23 اضلاع میں حلقہ بندیاں مکمل کرلیں جبکہ مزید اضلاع میں حلقہ بندیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ الیکشن کمیشن جلد خیبر پختونخوا حکومت سے انتخابات کی حتمی تاریخ مانگے گا۔ اسلام ٹائمز۔ الیکشن کمیشن نے کے پی کے میں مرحلہ وار بلدیاتی انتخابات کروانے پر کام شروع کر دیا، صوبے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان ہے۔ الیکشن کمیشن نے 23 اضلاع میں حلقہ بندیاں مکمل کرلیں جبکہ مزید اضلاع میں حلقہ بندیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ الیکشن کمیشن جلد خیبر پختونخوا حکومت سے انتخابات کی حتمی تاریخ مانگے گا۔ ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن رواں ماہ کے آخر میں مرحلہ وار بلدیاتی انتخابات کرانے کا حتمی فیصلہ کرے گا، بلدیاتی اداروں کی مدت مارچ اور جون 2026 میں مکمل ہو چکی ہے۔

الیکشن کمیشن نے 23 اضلاع میں الیکشنز کروانے کے لیے تیار ہے، اناضلاع میں بلدیاتی الیکشنز کی تاریخ سے متعلق سمری تاحال خیبر پختونخوا کابینہ میں زیر التوا ہے۔ کے پی کابینہ کے کل کے اجلاس میں سمری سے متعقل فیصلہ متوقع ہے، چیف سیکرٹری کے پی کے 28 جولائی تک الیکشن کمیشن کو آگاہ کریں گے۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • حکومت کا مسلسل تین دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا نیا ریکارڈ
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار