data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

امریکی دھمکیوں کے باعث 6 ایئر لائنز نے وینزویلا کیلئے پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔

عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق امریکی فضائی ادارے کی جانب سے بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں اور خطے میں امریکی فورسز کی وسیع تعیناتی کے تناظر میں خبردار کئے جانے کے بعد 6 ایئرلائنز نے وینزویلا کیلئے اپنی پروازیں معطل کی ہیں۔

وینزویلا ایئرلائنز ایسوسی ایشن کی صدر ماریسیلا دی لوئیزا نے بتایا کہ جن ایئرلائنز نے پروازیں منسوخ کی ہیں ان میں ہسپانیہ، پرتگال، چلی ، کولمبیا ، برازیل اور ٹرینیڈاڈ و ٹوباگو کی ایئرلائنز شامل ہیں۔

انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ معطلی کب تک جاری رہے گی جبکہ پاناما کی کوپا ایئرلائن،سپین کی ایئر یورپا، پلس الٹرا، ترکش ایئر لائن اور وینزویلا کی لاسر ایئرلائن فی الحال اپنی پروازیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن نے خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وینزویلا کی فضائی حدود میں شہری پروازیں خراب ہوتی سکیورٹی صورتحال اور بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں کے باعث غیر معمولی خطرات کا سامنا کر سکتی ہیں۔

بیان کے مطابق یہ خطرات پرواز کے ہر مرحلے اوور فلائٹ، لینڈنگ، ٹیک آف حتیٰ کہ زمینی ایئرپورٹس تک اثرانداز ہو سکتے ہیں۔

واشنگٹن نے خطے میں ایئرکرافٹ کیریئر اسٹرائیک گروپ، بحری جہاز اور اسٹیلتھ طیارے تعینات کئے ہیں جنہیں امریکی حکومت نے منشیات کی سمگلنگ روکنے کے اقدامات قرار دیا ہے تاہم وینزویلا میں اس تعیناتی کو رجیم چینج کی کوشش کے خدشات کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ویب ڈیسک مرزا ندیم بیگ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: وینزویلا کی

پڑھیں:

جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی

تہران:

ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔

 

ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔

مزید پڑھیں

مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔

ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام