امریکی دھمکیاں: وینزویلا کے لیے 6 ایئر لائینز کی پروازیں منسوخ
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکی دھمکیوں کے باعث 6 ایئر لائنز نے وینزویلا کیلئے پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔
عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق امریکی فضائی ادارے کی جانب سے بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں اور خطے میں امریکی فورسز کی وسیع تعیناتی کے تناظر میں خبردار کئے جانے کے بعد 6 ایئرلائنز نے وینزویلا کیلئے اپنی پروازیں معطل کی ہیں۔
وینزویلا ایئرلائنز ایسوسی ایشن کی صدر ماریسیلا دی لوئیزا نے بتایا کہ جن ایئرلائنز نے پروازیں منسوخ کی ہیں ان میں ہسپانیہ، پرتگال، چلی ، کولمبیا ، برازیل اور ٹرینیڈاڈ و ٹوباگو کی ایئرلائنز شامل ہیں۔
انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ معطلی کب تک جاری رہے گی جبکہ پاناما کی کوپا ایئرلائن،سپین کی ایئر یورپا، پلس الٹرا، ترکش ایئر لائن اور وینزویلا کی لاسر ایئرلائن فی الحال اپنی پروازیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن نے خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وینزویلا کی فضائی حدود میں شہری پروازیں خراب ہوتی سکیورٹی صورتحال اور بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں کے باعث غیر معمولی خطرات کا سامنا کر سکتی ہیں۔
بیان کے مطابق یہ خطرات پرواز کے ہر مرحلے اوور فلائٹ، لینڈنگ، ٹیک آف حتیٰ کہ زمینی ایئرپورٹس تک اثرانداز ہو سکتے ہیں۔
واشنگٹن نے خطے میں ایئرکرافٹ کیریئر اسٹرائیک گروپ، بحری جہاز اور اسٹیلتھ طیارے تعینات کئے ہیں جنہیں امریکی حکومت نے منشیات کی سمگلنگ روکنے کے اقدامات قرار دیا ہے تاہم وینزویلا میں اس تعیناتی کو رجیم چینج کی کوشش کے خدشات کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وینزویلا کی
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔