لڑکیوں کو بلیک میل اور ان کا جنسی استحصال کرنے والا ملزم ایک خاتون نے کیسے بے نقاب کیا؟
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
ٹیکنالوجی جہاں آسانیاں فراہم کرتی ہے وہیں احتیاط نہ برتنے کی صورت میں سنگین مسائل بھی جنم لے سکتے ہیں۔ آج کل موبائل فون ہیکنگ ایک عام مسئلہ بنتا جا رہا ہے، اور اکثر لوگ ایسے لنکس کھول بیٹھتے ہیں جو ان کے موبائل کا مکمل کنٹرول ہیکرز کے ہاتھ میں دے دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:محبت، بلیک میلنگ اور قتل، خوفناک واردات کی تفصیل سامنے آگئی
چند ماہ سے اس نوعیت کی کئی شکایات سامنے آئیں، مگر متاثرہ افراد کا شکوہ یہ رہا کہ کارروائی کے باوجود انہیں انصاف نہیں ملا۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے مسلسل انتباہ جاری کرتے رہتے ہیں، لیکن انجانے میں ایسے لنکس کھل ہی جاتے ہیں، اور ہیکرز تک پہنچنا تقریباً ناممکن سمجھا جاتا ہے۔
مگر یہ کہانی کنول نامی ایک ایسی خاتون کی ہے جنہوں نے نہ صرف ایک خطرناک ہیکر کا مقابلہ کیا بلکہ سینکڑوں لڑکیوں کو اس کے چنگل سے بچا بھی لیا۔
ہیکنگ کے ذریعے بلیک میلنگ کا آغاز12 نومبر کی رات 2 بجے کنول کے فون پر واٹس ایپ کا میسیج موصول ہوا۔ میسیج بھیجنے والے نمبر کے ساتھ ان کی بیٹی کی سہیلی کی تصویر موجود تھی، اس لیے معاملہ پہلے پہل معمولی محسوس ہوا۔ لیکن چند لمحوں بعد پیسوں کی تصاویر اور پھر نازیبا پیغامات موصول ہونے لگے، جس سے واضح ہو گیا کہ یہ کوئی دھوکہ ہے۔
کنول فوراً اس لڑکی کے گھر پہنچیں، جہاں معلوم ہوا کہ اس سہیلی کا فون ہیک ہو چکا ہے اور ایسے پیغامات دیگر لڑکیوں کو بھی موصول ہو رہے ہیں۔ پہلی بار اس طرح کے مسئلے سے سامنا ہونے کے باعث کنول اور ان کا خاندان شدید پریشان ہو گیا۔
ملزم کو جال میں پھنسانا اور گرفتاریکنول نے واپس آکر سارا معاملہ اپنے شوہر اسامہ کو بتایا، جنہوں نے انہیں مشورہ دیا کہ ملزم سے رابطہ برقرار رکھ کر اسے اپنی طرف مائل کریں اور پھر یہاں بلائیں۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں موبائل ہیکنگ کی بڑی کارروائی، اپنے موبائل کو کیسے محفوظ بنایا جاسکتا ہے؟
5 دن کی مسلسل ذہانت پر مبنی حکمت عملی کے بعد 17 نومبر کو کنول سمیر نامی شخص کو رنچھوڑ لائن بلانے میں کامیاب ہو گئیں۔ جمیلہ اسٹریٹ کے قریب کنول اور اسامہ نے ملزم کو پکڑ لیا۔ اس نے دھمکیاں دے کر جان چھڑانے کی کوشش بھی کی، لیکن ناکام رہا۔ اس موقع پر وہ لڑکی بھی موجود تھی جس کی تصویر کا استعمال کرکے بلیک میلنگ کا آغاز ہوا تھا۔ ملزم کو عیدگاہ تھانے کے حوالے کر دیا گیا۔
پولیس تحقیقات میں سینکڑوں لڑکیوں کا استحصال سامنے آگیاڈسٹرکٹ سٹی پولیس کراچی کے مطابق ملزم مختلف لنکس بھیج کر خواتین کے موبائل فون اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک کر لیتا تھا، پھر ان کی انتہائی ذاتی نوعیت کی معلومات تک رسائی حاصل کر لیتا۔
اس کے بعد وہ انہیں پیسوں کا لالچ دے کر یا دھمکا کر بلاتا، ان سے جنسی زیادتی کرتا، ویڈیوز بناتا اور انہی ویڈیوز کے ذریعے بلیک میل کر کے رقم بٹورتا تھا۔ پولیس نے ملزم کے قبضے سے 2 موبائل فون برآمد کیے جن میں بڑی تعداد میں غیر اخلاقی ویڈیوز موجود تھیں۔
ایس ایچ او عیدگاہ حفیظ اعوان کے مطابق ملزم سمیر کے موبائل سے 500 سے زائد فحش ویڈیوز برآمد ہوئیں جن میں زیادہ تر مختلف خواتین شامل تھیں۔ ملزم گزشتہ 2 سال سے یہی کام کر رہا تھا۔ کچھ ویڈیوز اس نے ڈیلیٹ بھی کر دی تھیں۔
پولیس نے مزید تحقیقات کے لیے ایف آئی اے کو خط لکھ دیا ہے تاکہ ملزم کے دوسرے جرائم اور اس کے نیٹ ورک کا سراغ لگایا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بلیک میلنگ رنچھوڑ لائن فون ہیکنگ موبائل فون.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلیک میلنگ رنچھوڑ لائن فون ہیکنگ موبائل فون موبائل فون بلیک میلنگ
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک