امریکی ویزا مسترد ہونے پر خاتون ڈاکٹر نے خودکشی کرلی
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
بھارت کی ریاست آندھرا پردیش کے ضلع گنٹور کی 38 سالہ خاتون ڈاکٹر نے امریکی ویزا نہ ملنے کی وجہ سے مبینہ طور پر خودکشی کر لی۔
ڈاکٹر کے گھر سے ایک خودکشی نوٹ بھی ملا، جس میں ڈپریشن اور ویزا مسترد ہونے کا ذکر تھا۔ ڈاکٹر روہنی کی والدہ، لکشمی نے بتایا کہ ان کی بیٹی امریکہ میں ملازمت کے لیے بے حد پرجوش تھیں لیکن ویزا کی مستردگی کے بعد وہ شدید افسردگی کا شکار ہو گئیں۔ روہنی حیدرآباد کے پدما راؤ نگر میں رہتی تھیں تاکہ قریبی لائبریریوں سے فائدہ اٹھا سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: خود کشی کرنے والے ایس پی عدیل اکبر کی میڈیکل رپورٹ اور چھٹی کی درخواست منظر عام پر
لکشمی نے مزید بتایا کہ روہنی نے اپنی تعلیم کرغزستان میں مکمل کی اور وہ ایک شاندار طالبہ تھیں۔ وہ بھارت میں پریکٹس کرنے کے بجائے امریکہ میں اپنی طبی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا خواہشمند تھیں، جہاں مریضوں کی تعداد زیادہ اور آمدنی بہتر تھی۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب ڈاکٹر کے خاندان کے افراد، جو شہر کے کسی اور علاقے میں رہائش پذیر تھےجواب نہ ملنے پر فلیٹ کا دروازہ توڑ کر داخل ہوئے اور انہیں مردہ پایا۔ اہلکاروں کے مطابق گھریلو ملازمہ نے خاندان کو اطلاع دی کیونکہ ڈاکٹر دروازہ نہیں کھول رہی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: معروف بھارتی ماڈل کی مبینہ خود کشی، آخری نوٹ میں کیا لکھا؟
ابتدائی معلومات کے مطابق ڈاکٹر نے سلیپنگ پِلز کا زیادہ استعمال یا انجیکشن کے ذریعے خودکشی کی تھی۔ تاہم موت کی حتمی وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد معلوم ہوگی۔ پوسٹ مارٹم کے بعد لاش ورثاء کے حوالے کر دی گئی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت خود کشی خودکشی کے واقعات ڈاکٹر کی خود کشی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت خودکشی کے واقعات ڈاکٹر کی خود کشی
پڑھیں:
انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
ایران کی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار محسن رضاعی نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا ردعمل شدید اور وسیع ہوگا۔
ایرانی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق محسن رضائی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اگر امریکہ نے ایران کے انفرا اسٹرکچر پر مزید حملے کیے تو ایران کا جوابی اقدام شدید اور بتدریج وسیع ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ شلمچہ میں زائرین پر حملہ اور انفرا اسٹرکچر پر حملوں کی امریکی دھمکیاں مایوسی اور بے بسی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔