نور زمان نے چیف آف ایئر اسٹاف اسکواش چیمپئن شپ جیت لی
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
کراچی:(نیوزڈیسک)پاکستان کے نور زمان نے دلچسپ اور سنسنی خیز مقابلے کے بعد چیف آف دی ایئر اسٹاف انٹرنیشنل اسکواش چیمپین شپ جیت لی۔
اسلام آباد کے مصحف اسکواش کمپلیکس پر37 ہزار ڈالرز کی انعامی رقم کی چیمپئن شپ کے فائنل میں سیڈ 2 اور عالمی انڈر 23 چیمپئن نور زمان نے سیڈ 10حمزہ خان کو 2-3 سے مات دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق حمزہ خان نے پہلا گیم 9-11 سے جیتنے کے بعد دوسرے گیم میں 7-11 سے کامیابی حاصل کی تاہم عالمی نمبر 42 نور زمان نے کھیل میں واپس آتے ہوئے اگلے تینوں گیم جیت کر کے ٹائٹل پر قبضہ جما لیا۔
سابق عالمی چیمپئن قمر زمان کے پوتے نور زمان نے تیسرا گیم 7-11، چوتھا گیم 4-11 اور پانچواں فیصلہ کن گیم 8-11 سے جیت کر ٹرافی اپنے نام کی، حمزہ خان نے کوارٹر فائنل میں ٹاپ سیڈ مصری کھلاڑی کریم الحمامی کو ہرانے کے بعد سیڈ 6 سوئیڈن کے ڈیوڈ برنیٹ کو شکست دے کر دوسرا اپ سیٹ کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔