گلشن اقبال میں 62 لاکھ روپے کی ڈکیتی، پولیس مقابلے کے بعد ایک ملزم گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں ایک نجی کورئیر کمپنی میں 62 لاکھ روپے کی ڈکیتی کی واردات نے علاقے میں ہلچل مچا دی۔ تین مسلح ملزمان کمپنی میں داخل ہوئے اور اسلحے کے زور پر لاکھوں روپے لوٹ کر فرار ہونے کی کوشش کی۔
ڈکیتی کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور ملزمان کا تعاقب شروع کر دیا۔ شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران ایک ملزم زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا، جبکہ اس کے دو ساتھی اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہو گئے۔
گرفتار ملزم کے قبضے سے اسلحہ اور دیگر سامان برآمد کر لیا گیا۔ پولیس کے مطابق زخمی ملزم کو تھانے منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ فرار ہونے والے دونوں ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے اور تلاشی جاری ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔